
خلیج اردو
یروشلم/دوحہ: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے کا حکم یروشلم میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد دیا۔ اس واقعے میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے جس کی ذمہ داری حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے قبول کی۔
وزیراعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتس کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یروشلم اور غزہ میں مہلک حملوں کے بعد وزیراعظم نے تمام سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی تھی کہ حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے امکانات کے لیے تیار رہیں۔ بیان کے مطابق منگل کے روز دوپہر میں ایک آپریشنل موقع ملنے پر وزیراعظم اور وزیر دفاع نے گزشتہ رات دی گئی ہدایات کو عملی جامہ پہنایا۔
عزالدین القسام بریگیڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ پیر کی صبح یروشلم کے رموٹ سیٹلمنٹ جنکشن پر فائرنگ کی کارروائی ان کے مجاہدین نے کی تھی، جو ان کے بقول "ہمارے محبوب القدس کی سرزمین” پر واقع ہے۔







