
خلیج اردو
دبئی: بھارت کی نوجوان خاتون جہناوی ڈنگیٹی 2029 میں خلا کے مشن پر جانے والی ہیں، جس کا انتخاب نجی ادارے ٹائٹنز اسپیس انڈسٹریز نے کیا ہے۔ 23 سالہ جہناوی کا کہنا ہے کہ بچپن ہی سے ان کا خواب خلا نورد بننا تھا، جو اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔
جہناوی آندھرا پردیش کے ایک گاؤں پلاکولو سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنی تعلیم کے دوران سائنسی مقابلوں میں نمایاں رہیں۔ انہوں نے پہلی بڑی کامیابی اس وقت حاصل کی جب ہائی اسکول کے دوران آئی ایس آر او اسپیس ویک کے مقابلے میں اپنی ٹیم کے ساتھ آئنک پروپلشن پر پریزنٹیشن پیش کر کے پہلا انعام جیتا۔ بعدازاں انہوں نے انٹرنیشنل ایئر اینڈ اسپیس پروگرام میں حصہ لیا، جہاں ایک تحقیقاتی منصوبے کے دوران ایک سیارچے (asteroid) کی دریافت بھی کی۔
ٹائٹنز اسپیس نے ان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے انہیں 2029 کے مشن کے لیے بطور امیدوار منتخب کیا۔ جہناوی نے بتایا کہ اس خبر پر پہلے یقین نہیں آیا لیکن اب ان کا ماننا ہے کہ "آسمان کوئی حد نہیں بلکہ ابتدا ہے”۔
جہناوی کا کہنا ہے کہ خلا تک پہنچنے کا واحد راستہ صرف خلا نورد بننا نہیں، بلکہ مختلف شعبوں سے بھی اس میدان میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔ وہ مستقبل میں سرخ سیارے مریخ پر قدم رکھنے اور وہاں نئی زندگی کے امکانات پیدا کرنے کا خواب رکھتی ہیں۔
جہناوی نے مختلف ممالک کے خلائی پروگرامز سے متاثر ہونے کا ذکر کیا اور خاص طور پر متحدہ عرب امارات کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ "امارات نے نہایت کم وقت میں شاندار کارنامے سرانجام دیے ہیں، جیسے خلا نورد کو آئی ایس ایس بھیجنا، ہوپ مارس مشن لانچ کرنا اور عوامی سطح پر تعلیم و شمولیت پر توجہ دینا۔‘‘






