
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں رواں سال 15 جون سے تین ماہ کے لیے دوپہر 12 بج کر 30 منٹ سے سہ پہر 3 بجے تک کھلی دھوپ میں کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ یہ اقدام اوکیوپیشنل ہیٹ اسٹریس پریونشن پالیسی کے تحت گزشتہ 21 برس سے نافذ ہے تاکہ شدید گرمی میں مزدوروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزارت محنت (MoHRE) کے مطابق اس سال کی مہم کے دوران ملک بھر میں تعمیراتی اور مختلف ورک سائٹس پر معائنہ کیا گیا، جس میں 99 فیصد کمپنیوں نے مکمل تعمیل کی۔ کمپنیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مزدوروں کے لیے سایہ دار مقامات فراہم کریں، مناسب کولنگ سہولیات مہیا کریں، وافر مقدار میں پینے کا پانی اور ہائیڈریشن سپلیمنٹس (جیسے الیکٹرولائٹس) دیں، اور ہر سائٹ پر فرسٹ ایڈ کا سامان موجود رکھیں۔
معاون سیکرٹری برائے انسپیکشن اینڈ کمپلائنس محسن علی النیسی نے کہا کہ یہ پالیسی مسلسل 21ویں سال نافذ کی گئی ہے جو یو اے ای کی مزدور دوست پالیسیوں اور انسانی ہمدردی کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کی جانب سے اس پر عملدرآمد ایک مستحکم روایت اور ترجیح بن چکی ہے جو اعلیٰ پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے معیار کے مطابق ہے۔
اس مہم کے دوران ملک بھر میں 10 ہزار سے زائد ایئر کنڈیشنڈ ریسٹ اسٹیشنز بھی فراہم کیے گئے جہاں بالخصوص ڈلیوری سروس ورکرز کے لیے آرام دہ سہولیات میسر کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے لیے کھانے پینے اور ریفریشمنٹ کی فراہمی کے اقدامات بھی کیے گئے جبکہ طبی معائنے بھی کرائے گئے۔






