متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے سائنسدانوں نے سورج کی نقصان دہ ہواؤں کی کئی روز قبل پیشگوئی کرنے والا جدید ماڈل تیار کر لیا

خلیج اردو
ابوظہبی میں قائم نیو یارک یونیورسٹی (این وائی یو اے ڈی) کے سائنسدانوں نے ایک ایسا مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل تیار کیا ہے جو سورج کی ہواؤں کی رفتار کو چار روز پہلے تک زیادہ درستگی کے ساتھ پیشگوئی کر سکتا ہے۔ یہ تحقیق معروف جریدے "دی ایسٹروفزیکل جرنل سپلیمنٹ سیریز” میں شائع ہوئی ہے۔

اس منصوبے کی قیادت پوسٹ ڈاکٹورل ایسوسی ایٹ دتراج دھوری اور سینٹر فار اسپیس سائنس (سی اے ایس ایس) کے شریک سربراہ شروان ہناسوگے نے کی۔ ماڈل کی تیاری میں ناسا کے سولر ڈائنامکس آبزرویٹری سے حاصل کردہ الٹرا وائلٹ (یو وی) تصاویر اور سورج کی ہواؤں کے سابقہ ریکارڈز کو استعمال کیا گیا۔

یہ اے آئی سسٹم روایتی زبان پر مبنی ماڈلز کے برعکس سورج کی تصاویر کا تجزیہ کرتا ہے اور ان پیٹرنز کو شناخت کرتا ہے جو سورج کی ہواؤں میں تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ ماڈل موجودہ آپریشنل سسٹمز کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ درستگی کے ساتھ پیشگوئی کرتا ہے جبکہ سابقہ اے آئی ماڈلز کے مقابلے میں 20 فیصد بہتری دکھاتا ہے۔

دتراج دھوری نے کہا کہ یہ ترقی سیٹلائٹس، نیویگیشن سسٹمز اور پاور انفراسٹرکچر جیسے اہم شعبوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ایک بڑا قدم ہے کیونکہ جدید زندگی کا انحصار انہی پر ہے۔ ان کے مطابق، جدید اے آئی اور شمسی مشاہدات کے امتزاج سے ہم ابتدائی وارننگ فراہم کر سکتے ہیں جو زمین اور خلا میں اہم ٹیکنالوجیز کو محفوظ بنانے میں مدد دے گی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button