
خلیج اردو
راس الخیمہ کے علاقے وادی اصفیطہ میں جمعہ 12 ستمبر کو گیس سلنڈر کے دھماکے کے نتیجے میں ایک گھریلو ملازمہ شدید جھلس گئی جبکہ ایک خاندان کا گھر بھی متاثر ہوا۔ یہ مقام راس الخیمہ شہر سے تقریباً 96 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
متاثرہ گھر کے رہائشی مصبح محمد اللیلی نے بتایا کہ اللہ کے کرم سے ان کے اہلخانہ، بشمول بچوں، کو کسی بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ سب اپنے مرحوم والد کے گھر میں جمع تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مغرب کی اذان کے وقت اچانک زوردار دھماکہ ہوا، پہلے ہمیں لگا دروازہ زور سے بند ہوا ہے لیکن چند لمحوں بعد گھریلو ملازمہ چیختی ہوئی بولی "آگ لگ گئی ہے”۔ جب ہم بھاگ کر پہنچے تو دیکھا کہ گھر کا ایک حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ دھماکہ چولہے کے قریب اس وقت ہوا جب چوہے نے گیس سلنڈر کی نلی کو کاٹ دیا تھا جس سے گیس لیک ہوئی اور آگ بھڑک اٹھی۔
دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کچن کا دروازہ تقریباً 50 میٹر دور جا گرا، برتن پگھل گئے، اے سی اور فریج تباہ ہوگئے، چھت گر گئی اور دیگر آلات بھی ٹوٹ پھوٹ گئے۔
40 سالہ ایشیائی گھریلو ملازمہ دھماکے کے وقت کچن میں موجود تھی۔ اسے جسم کے بیشتر حصے پر دوسری اور تیسری ڈگری کے زخم آئے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ نازک حالت میں آئی سی یو میں ہے اور تقریباً 20 آپریشن درکار ہیں۔
ابتدائی طور پر اسے فجیرہ اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن حالت کی سنگینی کے پیش نظر شیخ خلیفہ اسپیشلٹی اسپتال لے جایا گیا۔ اللیلی کے مطابق وہ دھماکے کے بعد بھاگ کر ان کی بہن کے گھر پہنچی مگر حالت تشویشناک ہے۔
یہ ملازمہ صرف چار ماہ پہلے ہی اس خاندان کے ساتھ کام پر آئی تھی۔ ایجنسی کو اس کے اہل خانہ کو اطلاع دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
راس الخیمہ پولیس، سول ڈیفنس اور فائر انویسٹی گیشن ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ اہل خانہ نے ان کی تیز کارروائی پر شکر ادا کیا۔
مصبح محمد اللیلی نے دیگر خاندانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سب کو چاہیے کہ گیس کنکشن باقاعدگی سے چیک کریں اور چولہا جلانے سے پہلے وینٹیلیشن کا خیال رکھیں، کیونکہ ایک چھوٹی سی غفلت جیسے چوہے کا پائپ کاٹ دینا بھی بڑے سانحے کا باعث بن سکتا ہے۔







