متحدہ عرب امارات

یو اے ای: مرکزی بینک نے شرح سود کم کر دی، قرضے مزید سستے ہونے کی توقع

خلیج اردو
یو اے ای میں قرضے مزید سستے ہونے جا رہے ہیں کیونکہ مرکزی بینک نے بدھ کے روز شرح سود میں کمی کا اعلان کیا۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کے اخراجات اور کاروباری سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، خاص طور پر رئیل اسٹیٹ، ریٹیل اور سیاحت جیسے شعبوں میں۔

مرکزی بینک کے بیان کے مطابق اوور نائٹ ڈپازٹ سہولت کی بیس ریٹ 4.4 فیصد سے کم کر کے 4.15 فیصد کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کے بعد سامنے آیا، کیونکہ درہم امریکی ڈالر سے منسلک ہے۔

فیڈرل ریزرو نے لیبر مارکیٹ کے سست روی اور سیاسی دباؤ کے باعث شرح سود کو 4.00 سے 4.25 فیصد کی حد میں کم کیا۔ یہ کمی دسمبر 2024 کے بعد پہلی بار کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی سے ہاؤسنگ مارکیٹ، ایس ایم ایز اور بڑی کمپنیاں سب مستفید ہوں گی۔ رہائشی قرضوں کی شرح کم ہونے سے دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں نئی ڈیمانڈ پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ سستے قرضے کاروباری توسیع میں مددگار ثابت ہوں گے۔

ماہرین نے کہا کہ اگرچہ شرح سود میں کمی بینکوں کی نٹ انٹرسٹ مارجن کو متاثر کر سکتی ہے لیکن زیادہ قرضوں کی سرگرمی اس کمی کو پورا کر دے گی۔ اس سے نہ صرف رہائشی اور تجارتی منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ عام صارفین پر قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بھی کم ہوگا۔

شرح سود میں کمی کے نتیجے میں ایف ڈی آئی میں اضافہ، اسٹاک مارکیٹ کی بہتری اور غیر تیل برآمدات میں مسابقتی برتری بھی متوقع ہے۔ تاہم، مقررہ ڈپازٹ پر انحصار کرنے والے بچت کنندگان کو کم منافع ملنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث سرمایہ کار ریئل اسٹیٹ، ایکویٹیز اور دیگر متبادل ذرائع کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خلیجی ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ انفراسٹرکچر اور بڑے رئیل اسٹیٹ منصوبے کم فنانسنگ لاگت سے مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھ سکیں گے۔ گھریلو قرضے سستے ہونے سے صارفین کی قوت خرید میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس کا اثر آٹوموبائلز، ٹیکنالوجی اور لگژری مصنوعات کی فروخت پر مثبت پڑے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button