متحدہ عرب امارات

صرف کمیشن پر: کچھ اماراتی رئیل اسٹیٹ بروکرز ایک دن میں دو سال کی تنخواہ کما لیتے ہیں

خلیج اردو
ابوظہبی:ریئل اسٹیٹ کا ایک ہی سودہ سب کچھ بدل سکتا ہے، اور تمارا کورٹن اس کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ کورونا وبا کے دوران اپنی ملازمت کھونے والی سابق فلائٹ اٹینڈنٹ نے رئیل اسٹیٹ کا رخ کیا، اور ایک آف پلان لانچ پر تین خریداروں کو ساتھ لے کر آئیں، جن میں سے ہر ایک نے دو دو یونٹ خریدے۔ شام کے اختتام تک انہوں نے اپنی سابقہ ملازمت کی دو سالہ تنخواہ ایک دن میں کما لی۔

ابوظہبی میں کرومپٹن پارٹنرز کے ساتھ کام کرنے والی تمارا کا کہنا ہے کہ یہ کام محض پیسوں کا نہیں بلکہ اعتماد اور مستقل مزاجی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جب آپ پیچھا کرتے ہیں تو کلائنٹس بھاگ جاتے ہیں، اصل کامیابی تب ہے جب آپ واقعی ان کی ضرورت سنتے ہیں۔”

یواے ای کا رئیل اسٹیٹ شعبہ خطے کے سب سے زیادہ منافع بخش شعبوں میں شمار ہوتا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی میں نئے آف پلان لانچز، گولڈن ویزا اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں نے اسے عالمی سطح پر پرکشش بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بروکرز کو بڑی کمیشن کے مواقع میسر ہیں، تاہم آمدنی غیر یقینی بھی رہتی ہے۔

29 سالہ دبئی بروکر عائشہ ایم نے کہا کہ "کبھی ایک ڈیل آدھے سال کی کمائی دے دیتی ہے، اور کبھی پورے مہینے کچھ نہیں ملتا۔ یہ حقیقت ہے کہ اس کام میں کوئی گارنٹیڈ آمدنی نہیں، لیکن اوپر جانے کے مواقع بے حد ہیں۔”

میٹروپولیٹن گروپ کے مطابق اب تک اس کے 177 ایجنٹس درہم ملینیئر بن چکے ہیں، جن میں سے چار نے 37 ملین درہم سے زیادہ کمائے، جبکہ 40 نے 10 ملین درہم سے زیادہ کمیشن حاصل کیا۔ گروپ کا کہنا ہے کہ تربیتی اکیڈمی، جدید مارکیٹنگ ٹولز اور کمیشن کی تیز تر ادائیگی اس کامیابی کے بنیادی عوامل ہیں۔

ایک مثال میں ایک ایجنٹ نے کمپنی میں شمولیت کے صرف دو ہفتوں بعد 60 ملین درہم کی سیلز مکمل کی۔ گروپ کے ڈپٹی سی ای او مائیک فلیٹ کے مطابق "ہم اپنے ایجنٹس کو مسلسل اور منظم تربیت فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ بدلتے ہوئے مارکیٹ کے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button