متحدہ عرب امارات

بھارت: ماں نے بیٹی کے بوائے فرینڈ کے ساتھ بھاگنے پر بدنامی سے بچنے کے لیے فرضی شیر کے حملے کی کہانی گھڑ دی

خلیج اردو
لکھنؤ:بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع سیتا پور میں ایک ماں نے اپنی بیٹی کے فرار کو چھپانے کے لیے گاؤں بھر کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ پریماء نامی خاتون نے دعویٰ کیا کہ شیر نے ان کی 18 سالہ بیٹی کامنی پر حملہ کر کے اسے ان کی آنکھوں کے سامنے کھیتوں سے گھسیٹ لیا۔ واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ماں کو روتے، چیختے اور بیہوش ہوتے دیکھا گیا۔

کامنی کی چپلیں بھی کھیتوں کے قریب ملی جس سے کہانی کو مزید تقویت ملی، نتیجتاً پولیس، محکمہ جنگلات اور مقامی افراد نے 10 گھنٹے طویل سرچ آپریشن کیا۔ 28 جنگلاتی اہلکار، 8 پولیس اہلکار، 2 ڈرونز، پنجروں اور جال کے ساتھ 550 دیہاتیوں نے 10 کلومیٹر رقبے میں تلاش کی، لیکن نہ کوئی شیر ملا نہ کامنی۔

تحقیقات کے بعد پولیس نے بتایا کہ کہانی سراسر من گھڑت تھی۔ پولیس کے مطابق کامنی اپنی مرضی سے گھر سے گئی اور ماں نے گاؤں میں بدنامی سے بچنے کے لیے یہ ڈرامہ رچایا۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں پریماء اور کامنی کی بہن کے بیانات میں تضاد پایا گیا، جس کے بعد دونوں نے حقیقت اگل دی کہ کامنی اپنے بوائے فرینڈ سنی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق خاندان نے منصوبہ بندی کے تحت کھیت میں چپل رکھ کر حملے کا ڈرامہ رچایا۔ پولیس نے جھوٹی اطلاع پھیلانے پر مقدمہ درج کر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ کامنی کی شادی نومبر میں طے تھی اور ماں نے گاؤں کی چہ مگوئیوں سے بچنے کے لیے شیر کی کہانی بنائی۔

ایک مقامی رہائشی ہرپال نے کہا کہ سیتا پور اپنے گنے کے کھیتوں اور جنگلات کی وجہ سے شیر کی آمد کے لیے مشہور ہے، لیکن اس بار شیر کی تلاش ایک بھاگتی ہوئی محبت کی کہانی پر ختم ہوئی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button