
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ان کوششوں کے خلاف ایک قدم ہے جو قبضے کو مستحکم کرنے یا مشرق وسطیٰ میں "ون اسٹیٹ حقیقت” مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اتوار کے روز برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد وہ ان 140 سے زائد ممالک میں شامل ہو گئے جنہوں نے فلسطینی عوام کی آزاد ریاست کے قیام کی خواہش کی حمایت کی ہے۔
اس اقدام پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "جو لیڈر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں وہ دہشت گردی کو بڑا انعام دے رہے ہیں،” ان کا اشارہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کی طرف تھا جس میں 1200 اسرائیلی ہلاک اور 251 مغوی بنائے گئے تھے۔ اس کے جواب میں جاری اسرائیلی کارروائی میں مقامی حکام کے مطابق اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، جبکہ غزہ کی بیشتر عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور آبادی کئی بار بے گھر ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر قرقاش نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا "دو ریاستی حل کو تقویت دیتا ہے، فلسطینی قومی حقوق کو جواز فراہم کرتا ہے اور مذاکرات کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔”
انہوں نے یو اے ای کے دو ریاستی حل کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ "یہی بہترین راستہ ہے جو منصفانہ امن کی ضمانت دیتا ہے اور تشدد، جنگوں اور تقسیم کی پالیسیوں سے دور رکھتا ہے۔”
یو اے ای طویل عرصے سے بین الاقوامی برادری پر زور دیتا رہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں دو ریاستی حل پر مبنی جامع اور منصفانہ امن کے لیے کوششیں کی جائیں۔







