
خلیج اردو
دبئی: ایک یورپی نژاد 39 سالہ شیف، جس کا نام ان کی درخواست پر بلیک ظاہر کیا گیا ہے، ببل ڈیٹنگ ایپ پر ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں تقریباً 9,800 درہم گنوا بیٹھے۔ متاثرہ شخص کے مطابق یہ فراڈ دبئی کے بزنس بے کے ایک ہوٹل بار میں کیا گیا، جہاں انہیں ایک روسی خاتون نے بلایا تھا۔
بلیک نے بتایا کہ خاتون سے ملاقات کے دوران پھلوں کی پلیٹر، سامن اور کئی مشروبات آرڈر کیے گئے، جن میں سے زیادہ تر انہوں نے خود نہیں منگوائے۔ اس دوران ایک جوڑا بھی آیا جس نے انہیں پھول خریدنے پر مجبور کیا، اور جب بل آیا تو وہ تقریباً 9,800 درہم نکلا، جس میں 500 درہم کا گلدستہ بھی شامل تھا۔
انہوں نے بتایا کہ یو اے ای بینک کارڈ سے ادائیگی نہ ہوسکی تو انہیں ریولٹ ٹرانسفر کے ذریعے رقم ادا کرنی پڑی۔ خاتون نے کسی قسم کی مدد سے انکار کیا اور ملاقات ختم کر کے وہاں سے چلی گئیں۔ اگلے دن خاتون نے دوبارہ ملاقات کی تجویز دی، تاہم بلیک نے انہیں بلاک کر دیا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ خلیج ٹائمز کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بزنس بے اور ڈی آئی ایف سی کے کچھ نائٹ کلبز میں اسی طرز کے دھوکے دہرائے جا رہے ہیں۔ دیگر متاثرہ افراد نے بھی شکایات درج کرائی ہیں کہ خواتین ببل یا ٹنڈر پر فرضی پروفائلز کے ذریعے مردوں کو بلاتی ہیں اور کلب میں مہنگے آرڈرز کروا کے بل بڑھا دیا جاتا ہے، جس کی ادائیگی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
متاثرین کے مطابق کلب مینجمنٹ ایسے معاملات میں جزوی ریفنڈ کی پیشکش کرتی ہے، جس سے اس دھندے پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔ آن لائن فورمز بشمول ریڈٹ پر بھی کئی صارفین نے ایسے ہی فراڈ کے تجربات شیئر کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے دھوکے میں ملوث خواتین کلب کے عملے کے ساتھ کمیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہیں۔ اس فراڈ کو یورپ اور مشرقی ایشیا کی پرانی تکنیک قرار دیا جا رہا ہے جو اب دبئی میں بھی اپنائی جا رہی ہے۔
بلیک کے بقول یہ ان کی زندگی کی سب سے مہنگی ملاقات تھی، جس سے انہوں نے سبق سیکھا کہ ظاہری چمک دمک کے پیچھے بھی خطرناک جال چھپے ہوسکتے ہیں۔







