متحدہ عرب امارات

یو اے ای: اساتذہ کو تحائف دینا قانونی ہے یا نہیں؟ ماہرین نے پالیسی واضح کردی

خلیج اردو
دبئی: یو اے ای کی نجی اسکولوں میں اساتذہ کو تحائف دینے کے رجحان پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ والدین اور اساتذہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا یہ تحائف محض شکریے کے جذبات ہیں یا سرکاری پالیسی کی خلاف ورزی۔ وزارت تعلیم کی نئی پروفیشنل اور بیہیویئرل گائیڈ لائنز کے مطابق والدین یا طلبہ سے تحائف قبول کرنا سیکنڈ لیول کی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔

ابوظہبی کے شائننگ اسٹار انٹرنیشنل اسکول کی پرنسپل ابھلاشا سنگھ نے کہا کہ ان کے اسکول میں واضح ضابطہ اخلاق ہے اور اساتذہ کو والدین سے قیمتی تحائف لینے کی اجازت نہیں۔ ان کے مطابق بیگ، زیورات یا دیگر قیمتی اشیاء قبول کرنا خلاف ورزی ہے اور اس پر تادیبی کارروائی ہوسکتی ہے۔ تاہم پھول، چاکلیٹ یا بچوں کے ہاتھ سے لکھے گئے کارڈ جیسے چھوٹے تحائف قابلِ قبول ہیں۔

اجمان کے وڈلم پارک اسکول ہمیدیہ کی پرنسپل شائنی ڈیوِسن نے بھی واضح کیا کہ ان کے اسکول میں صرف غیر مالیاتی اور کم قیمت تحائف قبول کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی قیمتی یا مالیاتی تحفے کو مسترد کر کے والدین کو آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ والدین اور اساتذہ کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی کارڈز، پی ٹی اے کی سرگرمیاں اور شکریہ کے دیگر تخلیقی طریقے اپنائے جائیں تاکہ شکریہ ادا کرنے کی روایت قائم رہے لیکن ضابطے بھی برقرار رہیں۔

دوسری جانب والدین کی رائے مختلف ہے۔ کچھ والدین کے نزدیک اجتماعی تحفہ یا کارڈ شکریے کا اظہار ہے اور یہ اسکول کی پالیسی کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ کچھ والدین چھوٹے تحائف کو تہواروں کی خوشگوار روایت سمجھتے ہیں۔ تاہم اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ شرکت ہمیشہ اختیاری ہونی چاہیے تاکہ کسی پر دباؤ نہ ہو۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button