متحدہ عرب امارات

سائبر حملوں سے یورپی ایئرپورٹس متاثر، ماہرین نے خطرناک کمزوریوں کی نشاندہی کردی

خلیج اردو
دبئی: یورپ کے کئی ایئرپورٹس پر حالیہ سائبر حملوں کے نتیجے میں فلائٹس کی تاخیر اور منسوخی کا سامنا کرنا پڑا، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹس کے آئی ٹی سسٹمز میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن اور پیچیدہ انٹرکنیکٹڈ ڈھانچے انہیں مزید خطرات سے دوچار کررہے ہیں۔

ہیتھرو اور برسلز ایئرپورٹ کے چیک اِن سسٹمز، جو امریکی کمپنی کولنز ایروسپیس فراہم کرتی ہے، ہفتے اور اتوار کو شدید متاثر ہوئے، جس سے متعدد ایئرلائنز سمیت ابوظہبی کی اتحاد ایئرلائن بھی متاثر ہوئی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق حملہ آوروں نے خودکار چیک اِن سسٹمز کو مفلوج کرنے کیلئے بدنیتی پر مبنی سافٹ ویئر استعمال کیا۔

کاسپر اسکی لیب کے ریسرچر ماہر یاموت نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ "ایسے حملوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں کیونکہ ایئرپورٹس کا بڑھتا ہوا انحصار مشترکہ سروس پرووائیڈرز اور پیچیدہ آئی ٹی نیٹ ورکس پر ہے، جو سائبر مجرموں کے لیے زیادہ راستے کھول دیتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ اکثر حملہ آور بنیادی نیٹ ورک کے بجائے تھرڈ پارٹی سپلائرز یا انٹرکنیکٹڈ سسٹمز کو نشانہ بناتے ہیں۔

سائبر سکیورٹی ماہر گیون ملارڈ نے صورتحال کو "جینگا ٹاور آف کوڈ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "اگر غلط اینٹ نکالی جائے تو پورا سسٹم افراتفری کا شکار ہوسکتا ہے۔” ان کے مطابق یہ کمزوری اکثر اپ ڈیٹ نہ کیے گئے سافٹ ویئر، غلط کنفیگریشن یا کمزور آتھنٹیکیشن کی وجہ سے سامنے آتی ہے۔

ملارڈ نے مزید کہا کہ دفاعی حکمت عملی صرف فوری ردعمل تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ "فائر پروفنگ” پر توجہ دینی ہوگی تاکہ ایک بھی کمزوری پورے نظام کو متاثر نہ کرسکے۔ انہوں نے برٹش ایئرویز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بیک اپ سسٹم مضبوط ہونے کی وجہ سے وہ نسبتاً کم متاثر ہوئے۔

یہ واقعات اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ ایئرپورٹس کا آئی ٹی ڈھانچہ اگرچہ ترقی یافتہ ہے لیکن اس میں معمولی سی کمزوری بھی بڑے پیمانے پر تباہ کن نتائج لا سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button