
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی نجی کمپنیوں نے اماراتی ٹیلنٹ کو متوجہ اور برقرار رکھنے کے لیے بڑے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جو صرف تنخواہوں تک محدود نہیں بلکہ ورک لائف بیلنس، پیشہ ورانہ ترقی اور خاندانی سہولتوں پر بھی فوکس کر رہے ہیں۔
ان اقدامات کے مرکز میں فیملی فرینڈلی پالیسیاں شامل ہیں جن میں 100 روزہ زچگی کی چھٹی، پدری چھٹیوں کا نیا نظام، لچکدار اوقات کار اور حتیٰ کہ دفاتر میں نرسریاں قائم کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ یہ اقدامات حکومت کے 24 ارب درہم کے نفیس پروگرام کے تحت 2025 تک نجی شعبے میں 75 ہزار اماراتیوں کے روزگار کے ہدف کے مطابق ہیں۔
ڈی پی ورلڈ نے 100 روزہ میٹرنٹی لیو، پدری چھٹیوں کا نیا نظام، ملازمین کے زیر قیادت فیملی سپورٹ گروپس اور دفاتر میں نرسریاں قائم کرنے کے منصوبے متعارف کرائے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدامات ملازمین کو خوش رکھنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ اماراتی گریجویٹس کو قیادت، پائیداری، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انوویشن جیسے شعبوں میں عملی تربیت دینے کے لیے ہیں۔
ادیداس نے اماراتی طلبہ و گریجویٹس کے لیے فیوچر ٹیلنٹ پروگرام شروع کیا ہے جس میں مختلف ڈیپارٹمنٹس میں ایک سالہ تربیتی گردش کے بعد موزوں شعبوں میں ملازمت فراہم کی جاتی ہے۔ کمپنی ملازمین کو ہفتے میں دو دن ریموٹ ورک کی سہولت دیتی ہے اور طلبہ کے لیے لچکدار اوقات کار رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں، ٹریول الاؤنس، بونسز، ہیلتھ انشورنس اور تربیتی پروگرام بھی پیکج میں شامل ہیں۔
ای اینڈ گروپ نے بھی اماراتی ملازمین کے لیے خصوصی تربیتی کورسز اور ٹیکنالوجی انٹیگریشن پروگرام شروع کیے ہیں تاکہ انہیں جدید مسابقتی ماحول میں کامیاب بنایا جا سکے۔ کمپنی ملازمین کو ریموٹ ورک، لچکدار اوقات کار اور اسٹڈی لیو فراہم کرتی ہے تاکہ وہ ملازمت کے ساتھ تعلیم بھی جاری رکھ سکیں۔
حکومت کے نفیس پروگرام کے تحت اماراتی ملازمین کو ماہانہ 7 ہزار درہم تک اضافی تنخواہ، بچوں کے لیے 800 درہم ماہانہ الاؤنس اور پنشن کنٹری بیوشنز دیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ، نجی کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی اماراتی ورک فورس میں ہر سال 2 فیصد اضافہ کریں اور 2026 تک 10 فیصد کوٹے کو پورا کریں، بصورت دیگر انہیں بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ اقدامات واضح کرتے ہیں کہ اب نجی کمپنیوں کے لیے اماراتی ٹیلنٹ کو راغب کرنے کا مطلب صرف مالی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ پیشہ ورانہ ترقی، خاندانی ذمہ داریوں اور ورک لائف بیلنس کو یقینی بنانا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 1 لاکھ 31 ہزار سے زائد اماراتی نجی شعبے میں ملازمت حاصل کر چکے ہیں۔






