متحدہ عرب امارات

یو اے ای رہائشی خاتون، غزہ ایڈ فلوٹیلا کشتی کی کپتان، حملوں اور خطرات سے متعلق انکشافات

خلیج اردو
یو اے ای میں مقیم انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ظہیرہ سومر، جو غزہ کیلئے روانہ ہونے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں سے ایک کشتی کی کپتان ہیں، نے انکشاف کیا ہے کہ منگل کی شب فلوٹیلا پر کئی بار حملے کیے گئے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ڈاکٹر ظہیرہ، جو تین بچوں کی ماں ہیں، 14 ستمبر کو تیونس سے سیکڑوں کارکنان کے ساتھ غزہ کیلئے امداد لے کر روانہ ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ 11 کشتیوں کو ڈرون اور دیگر آلات سے نشانہ بنایا گیا، جن میں سلفر ڈرون بھی شامل تھے جن کی خوشبو نقصان دہ ہے۔ بعض کشتیوں کو مست پر نشانہ بنایا گیا، لیکن اللہ کے فضل سے کوئی بڑی تباہی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔ فلوٹیلا فی الحال غزہ سے 600 ناٹیکل میل دور ہے اور اس کا مقصد غزہ کے عوام تک امداد پہنچانا ہے۔

ڈاکٹر ظہیرہ نے کہا کہ انہیں اس مشن میں شامل ہونے کی دعوت ملی تھی اور فیصلہ اتنا مشکل تھا کہ روانگی سے قبل انہوں نے اپنی وصیت بھی تیار کی۔ ان کے مطابق یہ ذاتی قربانی سے بڑھ کر ایک انسانیت کیلئے مشن ہے تاکہ محصور غزہ کے عوام کی مدد کی جا سکے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا تاریخ کے سب سے بڑے سول میری ٹائم قافلوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف سائز کی 50 سے زائد کشتیاں شامل ہیں۔ اس میں 47 ممالک کے کارکنان شریک ہیں، جن میں سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، فرانسیسی سیاستدان ایما فوررو اور امریکی اداکارہ سوزن سرنڈن بھی شامل ہیں۔ ماضی میں اسرائیل نے اسی طرح کے قافلوں کو روکا اور کئی کارکنوں کو گرفتار بھی کیا تھا۔

ڈاکٹر ظہیرہ نے بتایا کہ فلوٹیلا کیلئے ہفتوں تک قانونی، سکیورٹی اور میڈیا ٹریننگ کی گئی۔ ہر شریک کو صرف دس کلو سامان ساتھ لانے کی اجازت دی گئی ہے، اور سب کو محدود خوراک اور پانی کو راشن کی صورت میں استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسم کی سختیاں اور طوفان سفر کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں لیکن سب شریک ثابت قدم ہیں۔

بطور کشتی مینیجر، ڈاکٹر ظہیرہ روزانہ حفاظتی مشقیں کراتی ہیں، ٹیم کو بریفنگ دیتی ہیں اور ذمہ داریوں کی تقسیم کرتی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ یا مداخلت کی صورت میں سب تیار ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہم جانتے ہیں کہ خطرہ موجود ہے، لیکن ہمارا حوصلہ اور مقصد اس سے بڑا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button