
خلیج اردو
لکھنؤ: بھارت کی ریاست اترپردیش میں ایک بار پھر جنگلی جانوروں کی افواہوں نے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ سیتاپور میں جعلی ٹائیگر اٹیک کے ڈرامے کے بعد اب دارالحکومت لکھنؤ میں ایک ’’اے آئی سے بنایا گیا تیندوا‘‘ لوگوں کے لیے دہشت کا سبب بن گیا۔
معاملہ اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ہفتے شوگرکین انسٹی ٹیوٹ کے قریب نصب ڈیش کیم کی ایک ویڈیو وٹس ایپ گروپس میں وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر تیندوے کو دیکھا گیا۔ جلد ہی شہر کے مختلف علاقوں میں تیندوے کی ہائی ریزولوشن تصاویر، سیلفیز اور رات کے وقت گشت کرتی فوٹیجز گردش کرنے لگیں۔ والدین نے بچوں کو گھروں میں بند کر دیا، اسکول بند ہوگئے اور پولیس نے لاؤڈ اسپیکروں پر رات کو باہر نکلنے سے خبردار کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر اکھلیش یادو نے بھی ایک تصویر ٹوئٹ کر کے معاملے کو مزید سنجیدہ بنا دیا۔
فارسٹ اور پولیس ٹیموں نے شہر بھر میں سرچ آپریشنز شروع کیے، پارکوں اور کالونیوں میں سرچ لائٹس گھمائی گئیں، حتیٰ کہ کچھ مقامات پر ’’پگ مارکس‘‘ بھی ملے۔ لیکن ڈیجیٹل فارنزک ماہرین نے جب تصاویر کا جائزہ لیا تو ان میں نقلی پن کے اشارے ملے۔ کہیں فر بے حد ہموار نظر آ رہا تھا، کہیں سائے غیر فطری انداز میں پڑ رہے تھے، اور ایک سیلفی کی لائٹنگ اتنی بہترین تھی جیسے کسی میگزین کا کور ہو۔
تحقیقات کے بعد پولیس نے ایک نوجوان کو گرفتار کیا، جو صحافت کا طالب علم نکلا۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس نے دوستوں کو متاثر کرنے اور سوشل میڈیا پر فالوورز بڑھانے کے لیے اے آئی سافٹ ویئر سے یہ تصاویر بنائیں۔ دو افراد کو جھوٹی خبریں پھیلانے پر حراست میں لیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ کمشنر آف پولیس (سینٹرل) آشش سریواستاوا نے خبردار کیا کہ ’’اے آئی تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن خوف و ہراس پھیلانے کے لیے اس کا استعمال جرم ہے اور یہ عوامی امن و امان میں خلل ڈالتا ہے۔‘‘
مقامی تاجر محمد ادریس نے طنزیہ کہا: ’’پہلے ٹائیگر، اب تیندوا، اس رفتار سے تو اگلے ہفتے ہم ڈائنوسارز کا پیچھا کر رہے ہوں گے۔‘‘







