متحدہ عرب امارات

دبئی سے راس الخیمہ صرف 15 منٹ میں، 2027 میں اڑنے والی ٹیکسیوں کی پروازیں شروع ہوں گی

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں سفری سہولتوں میں انقلاب برپا کرنے کے لیے 2027 کی پہلی ششماہی میں اڑنے والی ٹیکسیوں کی پروازیں شروع کی جائیں گی جن کے ذریعے دبئی سے راس الخیمہ کا سفر ایک گھنٹے سے زائد کے بجائے محض 15 منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل ہوگا۔

ابتدائی مرحلے میں یہ سروس دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ورٹی پورٹ سے راس الخیمہ کے المرجان آئی لینڈ تک فراہم کی جائے گی، جہاں اربوں ڈالر مالیت کا وِن ریزورٹس تعمیر ہو رہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں یہ سروس المرجان آئی لینڈ سے جبل جیس، جو کہ امارات کی بلند ترین چوٹی ہے، تک بڑھائی جائے گی۔

جوبی ایوی ایشن، راس الخیمہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RAKTA) اور اسکائی پورٹس انفراسٹرکچر نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت 2027 میں یہ مسافر فضائی ٹیکسی سروس شروع کی جائے گی۔ جوبی ایوی ایشن کی تیار کردہ ٹیکسی 321 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتی ہے اور ایک پائلٹ کے ساتھ چار مسافروں کو بیک وقت لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ اس کا اخراج صفر ہے جسے ماحول دوست قرار دیا جا رہا ہے۔

راستہ کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل حسن البلوشی کے مطابق فضائی ٹیکسی سروس متعارف کرانا راس الخیمہ کے جامع موبلٹی پلان 2030 کا حصہ ہے، جس کا مقصد جدید، مؤثر اور ماحول دوست سفری آپشنز فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم نہ صرف رہائشیوں اور سیاحوں کی ضروریات پوری کرے گا بلکہ معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور راس الخیمہ کو ایک اسمارٹ سٹی اور عالمی سیاحتی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

جوبی ایوی ایشن کے یو اے ای جنرل مینیجر انتھونی خوری نے بتایا کہ یہ سروس طلب کے مطابق (آن ڈیمانڈ) ہوگی، اس کے لیے کوئی مقررہ فریکوئنسی یا شیڈول نہیں رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وِن ریزورٹس کی 2027 میں افتتاحی تقریب کے ساتھ ہی یہ سروس شروع کرنے کا ہدف ہے، کیونکہ اس موقع پر دبئی سے راس الخیمہ کی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

ان کے مطابق ابتدائی سالوں میں یہ سروس زیادہ تر سیاحوں کے لیے پرکشش ہوگی، کیونکہ دبئی سے المرجان آئی لینڈ تک کا راستہ بنیادی طلب کا باعث بنے گا۔ بعد ازاں مزید ورٹی پورٹس تعمیر کر کے یہ سہولت راس الخیمہ ایئرپورٹ اور ڈاؤن ٹاؤن تک پھیلائی جائے گی تاکہ مقامی رہائشی بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

یہ منصوبہ نہ صرف سفری وقت کم کرے گا بلکہ دبئی اور راس الخیمہ کے درمیان سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچائے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button