
خلیج اردو
ابوظبی میں خودکار گاڑیوں کے ذریعے روزمرہ زندگی میں بڑی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ یاس آئی لینڈ پر ہوٹل کے سامنے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹیکسی کا منظر اب معمول بن چکا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 30 ہزار سے زائد سفر مکمل ہوچکے ہیں اور آئندہ مہینوں میں اس نظام کو شہری علاقوں تک بڑھایا جائے گا۔
ابوظبی اس وقت 44 خودکار گاڑیوں کا نظام یاس آئی لینڈ، سادیات اور مصدر سٹی میں چلا رہا ہے جبکہ حالیہ مہینوں میں اسے الریِم اور المریہ آئی لینڈ تک بڑھا دیا گیا ہے۔ حکام کا ہدف ہے کہ 2040 تک ہر چار میں سے ایک سفر خودکار ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہو۔
ڈائریکٹر جنرل انٹیگریٹڈ ٹرانسپورٹ سینٹر ڈاکٹر عبداللہ حمد الغفیلی کے مطابق خودکار اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ سے نہ صرف سفر محفوظ اور مؤثر ہوگا بلکہ ٹریفک کم ہوگی، نئے بزنس ماڈلز سامنے آئیں گے اور شہریوں کو سہولت میسر آئے گی۔
عالمی اعداد و شمار کے مطابق 94 فیصد حادثات انسانی غلطی سے ہوتے ہیں، جبکہ ابوظبی میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ان خطرات کو کم کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ ہر گاڑی کو آزمائشی مراحل میں سیکیورٹی آپریٹرز کے ساتھ چلایا جاتا ہے اور بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کے بعد ہی اسے استعمال کی اجازت دی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ سہولت نہ صرف بزرگوں اور معذور افراد کے لیے آزادی کا ذریعہ بنے گی بلکہ لاجسٹکس کمپنیوں کو بھی 24 گھنٹے بلا رکاوٹ خدمات فراہم کرنے میں مدد دے گی۔
ابوظبی آٹونومس ویک 10 سے 15 نومبر تک منعقد ہوگا جس میں عالمی سطح پر پالیسی ساز، سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی ماہرین شریک ہوں گے۔ اس دوران ڈرائیور لیس گاڑیوں اور دیگر خودکار نظاموں کی نمائش کی جائے گی جبکہ روبو کپ ایشیا پیسیفک 2025 پہلی مرتبہ خطے میں ہوگا۔
یہ سب اقدامات ابوظبی کی جانب سے مستقبل کے ٹرانسپورٹ سسٹم کو محفوظ، پائیدار اور جدید بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔






