
خلیج اردو
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) نے اپنی شروعات 30 ستمبر 1960 کو ایک چھوٹے ٹرمینل اور ریت سے بنی رن وے کے ساتھ کی تھی، لیکن آج 65 برس بعد یہ دنیا کا سب سے مصروف ایئرپورٹ بن چکا ہے۔ 92 سے زائد عالمی ایئرلائنز اس سے منسلک ہیں اور یہ ایئرپورٹ مسلسل گیارہویں سال دنیا بھر کے بین الاقوامی مسافروں کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مرکز ہے۔
ایئرپورٹ کے چیئرمین شیخ احمد بن سعید آل مکتوم نے اس موقع پر ابتدائی دنوں کی نایاب جھلکیاں شیئر کیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایئرپورٹ نے کئی سنگ میل عبور کیے، جن میں 1970 کی دہائی میں نیا ٹرمینل اور کنٹرول ٹاور، 1983 میں دبئی ڈیوٹی فری کا آغاز، 1985 میں امارات ایئرلائن کی لانچنگ، 1998 میں ٹرمینل ٹو، اور 2008 میں ٹرمینل تھری کا افتتاح شامل ہے۔
2009 میں دبئی ایئرپورٹ نے دنیا کے تیز ترین ترقی کرنے والے ایئرپورٹس میں جگہ بنائی جبکہ 2014 سے یہ مسلسل عالمی مسافروں کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے۔ 2018 میں اس نے اپنے ایک اربویں مسافر کا استقبال کیا، جبکہ کورونا وبا کے دوران عارضی تعطل کے بعد یہ دنیا کے اولین بڑے مراکز میں شامل رہا جس نے دوبارہ آپریشن شروع کیے۔
سال 2025 میں DXB نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ٹرمینل تھری میں "ریڈ کارپٹ” اسمارٹ کوریڈور متعارف کرایا ہے۔ اس نظام کے ذریعے بیک وقت دس مسافر بغیر پاسپورٹ اسکین یا دستاویز چیک کے صرف چند سیکنڈز میں امیگریشن کا عمل مکمل کرسکتے ہیں۔
یہ کامیابیاں دبئی ایئرپورٹ کے اُس وژن کی عکاسی کرتی ہیں جس نے محض ایک چھوٹے ٹرمینل سے آغاز کیا اور آج جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ عالمی فضائی سفر کا سب سے اہم دروازہ بن چکا ہے۔






