
خلیج اردو
ابوظبی: حکام نے زرعی زمینوں پر کرپٹو کرنسی مائننگ پر پابندی عائد کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے ایک لاکھ درہم جرمانے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ بار بار خلاف ورزی کی صورت میں یہ جرمانہ دوگنا کر دیا جائے گا۔
ابوظبی ایگریکلچر اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (ادافسا) نے تصدیق کی ہے کہ کئی فارموں پر خلاف ورزیوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ اتھارٹی کے مطابق جو فارم مالکان یا کرایہ دار کرپٹو مائننگ میں ملوث پائے گئے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے تحت زرعی سہولیات اور سرکاری معاونت معطل کر دی جائے گی، بجلی کاٹ دی جائے گی اور مائننگ کا سامان ضبط کر لیا جائے گا۔
اتھارٹی نے کہا کہ غیر مطابقت رکھنے والے فارم مالکان کو سپورٹ پروگرامز سے بھی محروم کر دیا جائے گا اور معاملہ متعلقہ حکام کو مزید قانونی کارروائی کے لیے بھیجا جائے گا۔
2024 میں حکام نے خبردار کیا تھا کہ فارموں پر کرپٹو کرنسی مائننگ کرنے والوں پر 10 ہزار درہم تک جرمانہ عائد ہوگا، تاہم 2025 میں جرمانے کی رقم 900 فیصد بڑھا دی گئی ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ مائننگ جیسی سرگرمیاں زرعی پیداواریت، پائیداری اور حیاتیاتی تحفظ کے لیے نقصان دہ ہیں۔
Adafsa نے تمام فارم مالکان اور زرعی ورکرز کو ایک بار پھر ہدایت کی ہے کہ وہ ان سرگرمیوں سے باز رہیں جو مجاز زرعی اور لائیو اسٹاک کے معاشی استعمال کے دائرے سے باہر ہیں۔






