
خلیج اردو
دبئی: اماراتی جینیٹکس کی ماہر ڈاکٹر مریم مطر نے انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ ان کی عمر 50 برس ہے مگر ان کے جسم کی حیاتیاتی عمر صرف 28 سال ہے، جبکہ ان کے اہم اعضاء جیسے گردہ، جگر اور دل کی عمر محض 16 سال کے برابر ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا جدید ٹیکنالوجی اور ری جنریٹیو میڈیسن کو دیا۔
ویمن ان ٹیکنالوجی فورم کے دوران "مینٹل لانجیویٹی فار ویمن اینڈ سپورٹنگ ٹیکنالوجیز” کے عنوان سے منعقدہ پینل میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سارا عمل ’’ثبوت پر مبنی سائنس‘‘ ہے۔ ڈاکٹر مریم نے وضاحت کی کہ خواتین کو فطری طور پر مردوں پر جینیاتی برتری حاصل ہے کیونکہ ان کے پاس دو "ایکس کروموسومز” ہوتے ہیں، جو انہیں تجزیاتی صلاحیت، بہتر فیصلہ سازی اور زیادہ عمر عطا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مریم نے اپنی ریسرچ کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2011 میں جاپان میں پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے دوران ایک بزرگ پروفیسر سے ملاقات نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے ری جنریٹیو میڈیسن کی طرف رخ کیا تاکہ بڑھتی عمر کو سائنسی بنیادوں پر بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سیلز کی حیاتیاتی عمر کو ناپنا ممکن ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنے جسم کی اصل عمر سے کہیں کم عمر محسوس کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اوسطاً مردوں سے پانچ سال زیادہ عمر پاتی ہیں، اس کی وجہ نہ صرف جینیاتی برتری بلکہ رویوں میں فرق بھی ہے، جیسے مردوں میں خودکشی کی شرح زیادہ ہونا۔
ڈاکٹر مریم نے کہا کہ "اللہ نے خواتین کو ایسٹروجن کی صورت میں ایک حفاظتی عنصر دیا ہے جو ان کی لمبی عمر میں مددگار ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ دیر سے ماں بننے والی خواتین کی زندگی بھی نسبتاً طویل اور صحت مند رہتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مشہور سپلیمنٹس جیسے اشواگندھا خواتین کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور کہا کہ صحت سے متعلق معلومات ہمیشہ مستند ذرائع سے حاصل کی جائیں۔ ان کے مطابق یو اے ای میں صحت کی خدمات صرف لائسنس یافتہ اور حکومتی نگرانی میں فراہم کی جاتی ہیں، جس سے شہریوں کو درست رہنمائی ملتی ہے۔
ڈاکٹر مریم مطر نے یقین دلایا کہ مستقبل میں پیدا ہونے والی خواتین مزید لمبی اور صحت مند زندگی گزار سکیں گی۔ ان کا کہنا تھا: "2021 میں پیدا ہونے والی ہر بچی اگر اپنی صحت کا خیال رکھے تو وہ 97 سال تک زندہ رہ سکتی ہے۔






