متحدہ عرب امارات

دنیا کی معروف ماہر حیوانات جین گوڈال 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

خلیج اردو
لاس اینجلس: دنیا بھر میں چمپینزی پر تحقیق کے ذریعے شہرت پانے والی برطانوی ماہر حیوانات اور ماہر ماحولیات جین گوڈال 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ جین گوڈال انسٹی ٹیوٹ کے مطابق وہ امریکہ کے دورہ پر لاس اینجلس میں پرسکون نیند کے دوران وفات پا گئیں۔

گوڈال کی آخری ویڈیو میں وہ اپنے مخصوص سبز لباس میں مسکراتے ہوئے کہتی ہیں: ’’کچھ لوگ بونژور کہتے ہیں، کچھ گوٹن مورگن، اور میں کہہ سکتی ہوں، ہو-ہو-ہو-ہو! یہ چمپینزی کی زبان میں صبح بخیر ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "جین گوڈال ہماری امن کی پیامبر تھیں، وہ انسانیت اور کرہ ارض کے لیے ایک عظیم ورثہ چھوڑ کر جا رہی ہیں۔” تنزانیہ کی صدر سامعہ سُلحُو حسن نے کہا کہ "انہوں نے گومبے نیشنل پارک میں اپنی تحقیق کے ذریعے وائلڈ لائف کنزرویشن کو نئی جہت دی اور ہمارے ملک کو عالمی سطح پر مرکز بنایا۔” اداکارہ اور ماحولیاتی کارکن جین فونڈا نے کہا کہ "ان کی زندگی کو سب سے بہترین خراج یہ ہے کہ ہم زمین اور اس کے باسیوں کو اپنے خاندان کی طرح محبت اور احترام دیں۔”

جین گوڈال 3 اپریل 1934 کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ بچپن سے ہی جانوروں کی دلدادہ تھیں اور اپنے والد کی دی ہوئی کھلونا چمپینزی کو زندگی بھر اپنے پاس رکھا۔ 1957 میں کینیا آئیں جہاں انہوں نے مشہور ماہر آثار قدیمہ لوئس لیکی کے ساتھ کام کیا، جنہوں نے انہیں تنزانیہ بھیجا۔ ان کی تحقیق نے دنیا کو حیران کیا جب انہوں نے دریافت کیا کہ چمپینزی گھاس اور ٹہنیوں کو اوزار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے بغیر انڈرگریجویٹ ڈگری کے پی ایچ ڈی مکمل کی، جو دنیا کے چند لوگوں میں سے ایک ریکارڈ تھا۔ ان کے مشاہدے نے یہ بھی ثابت کیا کہ چمپینزی نہ صرف پرامن بلکہ کبھی کبھار پرتشدد رویے بھی اختیار کرتے ہیں، جس میں علاقائی جنگیں اور نوزائیدہ چمپینزی کو مار ڈالنا شامل تھا۔

1977 میں انہوں نے جین گوڈال انسٹی ٹیوٹ قائم کیا اور 1991 میں ’’روٹس اینڈ شوٹس‘‘ نامی ماحولیاتی پروگرام شروع کیا، جو آج 60 سے زائد ممالک میں فعال ہے۔

1980 کی دہائی میں جب انہوں نے چمپینزی کے شکار، طبی تجربات میں استعمال اور مسکن کی تباہی کے خطرات دیکھے تو وہ ایک سرگرم ماحولیاتی کارکن بن گئیں اور نوے برس کی عمر تک دنیا بھر میں سفر کرتی رہیں۔

انہوں نے دو شادیاں کیں، پہلی شوہر ڈچ فوٹوگرافر ہیوگو وان لاوک سے ایک بیٹا پیدا ہوا جو ان کے بعد زندہ ہے۔ دوسری شادی تنزانیہ کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک برائسسن سے ہوئی جو کینسر کے باعث انتقال کر گئے۔

گوڈال نے درجنوں کتابیں لکھیں، دستاویزی فلموں میں کام کیا اور کئی عالمی اعزازات پائے، جن میں برطانیہ کا ’’ڈیم کمانڈر‘‘ اور امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ’’پریزیڈنشل میڈل آف فریڈم‘‘ شامل ہیں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں ہمیشہ زور دیا کہ "ہر شخص کا کردار ہے، ہم سب روزانہ زمین پر کوئی نہ کوئی اثر ڈالتے ہیں، اور یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم کیسا اثر ڈالیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button