
خلیج اردو
دبئی: یو اے ای اور خلیجی ممالک میں مہنگائی کے بڑھتے رجحان اور شرح سود میں کمی کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد اپنی نقد رقم سونے میں منتقل کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق عوام سونے کو اب ایک محفوظ، پائیدار اور منافع بخش سرمایہ کاری کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔
یو اے ای کے جیولرز اور تاجروں کا کہنا ہے کہ شہری اپنی بچت کو سونے میں تبدیل کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ افراطِ زر کے باعث ان کی نقد رقم کی قدر میں کمی واقع ہوگی۔ مسلسل بڑھتی ہوئی سونے کی قیمتوں نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ سونا غیر یقینی معاشی حالات میں ایک مضبوط سہارا ہے۔
الرمیزان کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر محمد ضیبان نے کہا:
“سونے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور لوگ اسے ایک محفوظ اور فوری نقد بننے والی سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ اب لوگ نقدی کے بجائے سونا یا زیورات خرید رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں قیمتیں مزید بڑھیں گی۔ کچھ ماہرین تو پیش گوئی کر رہے ہیں کہ قیمت 5 ہزار ڈالر فی اونس تک جا سکتی ہے، اسی لیے لوگ ابھی خریداری کر رہے ہیں تاکہ موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے۔”
اس رجحان کی تائید اسکوپ مارکیٹس کے سی ای او پاویل سپیرن نے بھی کی۔ ان کے مطابق “یو اے ای اور خلیجی خطے میں لوگ بڑی تیزی سے اپنی نقدی کو سونے اور دیگر آن لائن سرمایہ کاریوں میں منتقل کر رہے ہیں۔”
گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں سونا 3,949 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ یو اے ای میں 24 قیراط سونا 475.25 درہم فی گرام اور 22 قیراط 440 درہم فی گرام فروخت ہوا۔
ماہرین کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی حالیہ شرح سود میں کمی کے بعد خلیجی ممالک میں بھی سودی منافع کم ہو رہے ہیں، جس سے بینک ڈپازٹس کی کشش گھٹ گئی ہے اور لوگ متبادل سرمایہ کاریوں — خصوصاً سونے — کی طرف مائل ہیں۔
محمد ضیبان نے مزید بتایا کہ زیادہ تر خریدار روزمرہ استعمال کے قابل زیورات خرید رہے ہیں، نہ کہ بہت مہنگے یا بھاری ڈیزائن۔
“کچھ لوگ سونے کی اینٹیں خرید رہے ہیں تاکہ بعد میں بیچ سکیں، لیکن زیادہ تر افراد ایسے زیورات خرید رہے ہیں جنہیں وہ پہن بھی سکیں اور سرمایہ کاری بھی بنائیں۔”
جواہرہ جیولری کے ڈپٹی گروپ سی ای او تمجید عبداللہ کے مطابق مختلف قومیتوں کی خریداری کے رجحانات مختلف ہیں۔
“عرب خریدار عام طور پر 60 سے 70 فیصد سونا اور 30 سے 40 فیصد ہیروں والے زیورات پسند کرتے ہیں، جب کہ ایشیائی صارفین زیادہ تر 90 فیصد سونا اور کم جواہرات والے ڈیزائن ترجیح دیتے ہیں۔”
سیلم الشعیبی جیولری کے وائس سی ای او احمد انیزان کے مطابق اب صارفین سونے کی قیمتوں سے زیادہ آگاہ ہو چکے ہیں۔
“پہلے لوگ صرف نئے ڈیزائن میں دلچسپی رکھتے تھے، اب وہ قیمتوں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ کووِڈ کے بعد سے سونے کی قیمت میں سالانہ 30 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ پہلے یہ شرح صرف 5 سے 7 فیصد ہوتی تھی۔”
انہوں نے کہا کہ “لوگوں کو اب احساس ہو گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ زیورات کی تیاری کی لاگت بھی واپس حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ سونے کی قیمتیں مستقل بڑھ رہی ہیں۔







