متحدہ عرب امارات

شارجہ کے حکمراں شیخ سلطان بن محمد القاسمی نے ممتاز ماہرِ تعلیم محمد دیاب الموسیٰ کی نمازِ جنازہ پڑھائی

خلیج اردو
شارجہ: سپریم کونسل کے رکن اور شارجہ کے حکمراں، عالی جناب شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے آج صبح اپنے دیرینہ تعلیمی مشیر محمد دیاب الموسیٰ کی نمازِ جنازہ کی امامت کی۔ نمازِ جنازہ میں شاہی خاندان کے افراد، اعلیٰ حکومتی عہدیداران، شہریوں اور رہائشیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس نامور ماہرِ تعلیم کو آخری الوداع کہا جنہوں نے شارجہ کے تعلیمی اور ثقافتی سفر میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

محمد دیاب الموسیٰ 92 برس کی عمر میں گزشتہ روز انتقال کر گئے۔ ان کا شمار شارجہ کے تعلیمی نظام کی بنیاد رکھنے والے اولین رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ 1933 میں فلسطین کے شہر کفر عنا میں پیدا ہوئے اور اپنی زندگی تعلیم، ثقافت اور ابلاغ عامہ کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے فلسطین، اردن، کویت اور متحدہ عرب امارات میں خدمات انجام دیں۔

1945 میں انہوں نے شارجہ کے پہلے باقاعدہ اسکول قائم کرنے میں کردار ادا کیا اور بعد ازاں 1957 سے 1981 کے دوران مختلف عرب ممالک میں استاد، معائنہ کار اور منتظم کے طور پر کام کیا۔ ان کی کاوشوں نے خطے کے تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

1981 سے 1989 تک وہ شارجہ کے محکمہ ثقافت کے پہلے ڈائریکٹر رہے، جو عرب دنیا میں ثقافتی امور کے لیے قائم ہونے والا پہلا سرکاری ادارہ تھا۔ شیخ سلطان بن محمد القاسمی کی سرپرستی میں انہوں نے شارجہ انٹرنیشنل بُک فیئر، چائلڈ کلچر فیسٹیول اور شارجہ تھیٹر ڈیز جیسے نمایاں منصوبے متعارف کرائے، جنہوں نے شارجہ کو خطے کے ثقافتی مرکز کے طور پر اُبھارا۔

بعد ازاں وہ 1989 سے 1998 تک شارجہ ٹی وی کے ڈائریکٹر جنرل اور 1997 سے 1998 تک عرب سیٹ کوآرڈینیشن کونسل کے نائب چیئرمین رہے۔ 1998 سے 2000 تک انہوں نے شارجہ سپریم کونسل برائے چائلڈ ہُڈ کے سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 2000 میں انہیں شارجہ کے حکمراں کا تعلیمی مشیر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے پالیسی سازی اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

محمد دیاب الموسیٰ شارجہ ایجوکیشن کونسل اور شارجہ ایوارڈ برائے تعلیمی امتیاز کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن بھی رہے۔ ان کی رہنمائی میں بے شمار اساتذہ نے تربیت حاصل کی اور نئی نسل کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب ملی۔

اپنی تمام زندگی میں محمد دیاب الموسیٰ اپنی عاجزی، فہم و فراست اور علم کے لیے غیر معمولی لگن کے باعث جانے جاتے تھے۔ ان کی خدمات شارجہ کے اس تعلیمی اور ثقافتی سفر کی عکاس ہیں جو شیخ سلطان بن محمد القاسمی کی دانشمندانہ قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button