متحدہ عرب امارات

نئی زندگی کی شروعات: برطانوی انجینئر نے دبئی میں نیوکلیئر ری ایکٹر چھوڑ کر فٹنس کوچنگ اپنا لی

خلیج اردو
دبئی: برطانوی شہری کیمرون گورڈن، جو کبھی برطانیہ میں نیوکلیئر ری ایکٹرز کی دیکھ بھال کرتے تھے، آج دبئی میں ایک کامیاب فٹنس کوچ اور کاروباری شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ 30 سالہ کیمرون نے گیارہ برس تک برطانیہ کے مختلف پاور اسٹیشنز میں انجینئر کے طور پر خدمات انجام دیں، تاہم اپنی زندگی میں نیا موڑ لاتے ہوئے انہوں نے دبئی میں ’’گرافٹ‘‘ کے نام سے ایک جدید فٹنس سینٹر کی بنیاد رکھی۔

کیمرون نے کہا، ’’میں نہیں چاہتا تھا کہ تیس سال بعد پیچھے مڑ کر دیکھوں اور سوچوں کہ کاش میں اپنے خواب کا پیچھا کرتا۔ اگر میں خود اپنے خواب کے پیچھے نہیں جاؤں گا تو اپنے بچوں کو کیسے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے خواب پورے کریں۔‘‘

کیمرون اگست گزشتہ سال دبئی پہنچے اور ابتدا میں ابوظبی کے برکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ میں بطور انجینئر کام شروع کیا، مگر صرف چار ماہ بعد انہوں نے فٹنس کوچنگ کے اپنے خواب کی طرف قدم بڑھایا۔

کیمرون کا انجینئرنگ کیریئر 16 سال کی عمر میں شروع ہوا، جب انہوں نے ایک اپرنٹس شپ پروگرام کے تحت دو سال برطانوی بحریہ کے اڈے پورٹسمتھ میں تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں وہ بارکہ پاور اسٹیشن میں مینٹیننس ٹیم لیڈر کے طور پر تعینات ہوئے جہاں ان کی ذمہ داری ری ایکٹرز کی مرمت اور بندش کے دوران نگرانی تھی۔

کیمرون نے بتایا، ’’یہ ایک محفوظ اور مستحکم نوکری تھی، لیکن اس میں وہ جوش نہیں تھا جو مجھے چاہیے تھا۔‘‘ برطانیہ میں وہ برسوں تک جزوقتی کوچ کے طور پر صبح سویرے اور شام کے وقت کراس فٹ کلاسز لیا کرتے تھے۔ ’’پہلی بار کوچنگ کرتے ہی مجھے احساس ہوا کہ یہی میری اصل لگن ہے۔‘‘

ان کی شریکِ حیات، جو دبئی میں ایک اسکول میں پڑھاتی ہیں، نے انہیں حوصلہ دیا کہ وہ دبئی آ کر فٹنس کوچنگ کریں۔ ’’انہوں نے کہا، تمہاری خوشی میری خوشی ہے، آؤ اور اپنے خواب کو حقیقت میں بدلو۔‘‘

ابتدائی طور پر انہوں نے ’’ایلیویٹ کراس فٹ‘‘ میں کوچنگ شروع کی، جہاں ان کی ملاقات جم کی مالک جون سے ہوئی۔ دونوں نے مل کر ’’گرافٹ‘‘ کے نام سے ایک نیا فٹنس سینٹر کھولنے کا فیصلہ کیا، جو آج دبئی کا نیا فٹنس ہب بن چکا ہے۔

گرافٹ (Graft) ایک ہائبرڈ فٹنس سینٹر ہے جہاں مکمل طور پر کوچنگ پر مبنی کلاسز فراہم کی جاتی ہیں۔ کیمرون کے مطابق ’’گرافٹ کا مطلب ہے محنت، لگن اور خود کو جسمانی و ذہنی طور پر مضبوط بنانا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ گرافٹ میں نئے آنے والوں کو ایک ہفتے کے اندر تمام بنیادی حرکات میں مہارت دلائی جاتی ہے تاکہ فٹنس ہر کسی کی پہنچ میں ہو۔

یہ جم اپنی جدید ترین مشینری، اعلیٰ معیار کی کوچنگ، اور کمیونٹی ماحول کی وجہ سے منفرد سمجھا جاتا ہے۔ کیمرون کے مطابق، ’’ہم نے کوچز کا انتخاب پہلے ان کی شخصیت کی بنیاد پر کیا، پھر ان کی قابلیت دیکھی۔ لوگ اس وقت تک نہیں جاننا چاہتے کہ آپ کتنا جانتے ہیں، جب تک انہیں یقین نہ ہو کہ آپ ان کی پرواہ کرتے ہیں۔‘‘

کیمرون کا کہنا ہے کہ دبئی کی فٹنس کمیونٹی دنیا بھر سے منفرد ہے۔ ’’یہاں آنے والے زیادہ تر لوگ خودمختار، پرعزم اور بلند حوصلہ ہوتے ہیں، اور یہی اس شہر کی خاص بات ہے۔‘‘

ان کے مطابق اب فٹنس کلچر صرف ظاہری جسمانی ساخت سے نکل کر کارکردگی اور صحت پر مبنی تربیت کی طرف جا رہا ہے۔ ’’جب آپ صرف ظاہری تبدیلیوں کے بجائے بہتر کارکردگی کے لیے ٹریننگ کرتے ہیں تو آپ کا فٹنس سے تعلق زیادہ پائیدار اور مثبت بن جاتا ہے۔‘‘

کاروبار سے وابستگی ان کے خاندانی پس منظر کا حصہ ہے۔ ان کے والدین بھی برطانیہ میں کاروبار چلاتے ہیں۔ اب کیمرون کا ہدف گرافٹ کے الموز کی شاخ کو منافع بخش بنانا اور مستقبل میں ابوظبی و دبئی ساؤتھ میں نئی شاخیں کھولنا ہے۔

کیمرون گورڈن اب ہر روز اسی خواب کے ساتھ جاگتے ہیں جسے کبھی انہوں نے سوچا تھا — دوسروں کو صحت مند زندگی گزارنے کی ترغیب دینا اور ایک مضبوط، باہمی تعاون پر مبنی فٹنس کمیونٹی قائم کرنا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button