متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں گولڈن ویزا ہولڈرز کے لیے نئی قونصلر خدمات کا اعلان

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے گولڈن ویزا ہولڈرز کے لیے خصوصی قونصلر خدمات کا نیا پیکج متعارف کرایا ہے جو پہلے صرف یو اے ای کے شہریوں کے لیے دستیاب تھا۔ ان خدمات میں پاسپورٹ گم یا خراب ہونے کی صورت میں ریٹرن ڈاکیومنٹ کا اجرا، ہنگامی حالات میں خصوصی ہاٹ لائن، بحران یا ایمرجنسی میں معاونت، اور بیرون ملک وفات پانے والے گولڈن ویزا ہولڈرز کی میت کی وطن واپسی میں مدد شامل ہے۔

وزارت کے مطابق گولڈن ویزا ہولڈرز کے لیے ایک 24 گھنٹے فعال ہاٹ لائن نمبر (+97124931133) مختص کیا گیا ہے، جس کے ذریعے وہ بیرون ملک سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

پاسپورٹ گم ہونے کی صورت میں گولڈن ویزا ہولڈر وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے "ریٹرن ڈاکیومنٹ” حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ دستاویز صرف ایک بار داخلے کے لیے کارآمد ہے اور اسے جاری ہونے کے 7 دن کے اندر استعمال کرنا لازمی ہے۔ درخواست دہندہ کو گمشدگی کی رپورٹ، گولڈن ویزا کی تفصیلات اور سفید پس منظر کے ساتھ اپنی حالیہ تصویر اپ لوڈ کرنی ہوگی۔ دستاویز صرف 30 منٹ میں جاری کر دی جاتی ہے اور اس پر کوئی فیس نہیں لی جاتی۔

وزارت نے واضح کیا کہ ریٹرن ڈاکیومنٹ صرف یو اے ای واپسی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، یہ کسی تیسرے ملک کے سفر یا ٹرانزٹ کے لیے کارآمد نہیں۔

وفات کی صورت میں، میت کی وطن واپسی کے لیے درخواست یو اے ای مشن یا مذکورہ ہاٹ لائن کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ ضروری دستاویزات میں مرحوم کا پاسپورٹ، ڈیتھ سرٹیفکیٹ، اور مقامی حکام سے جاری کردہ دیگر متعلقہ سرکاری کاغذات شامل ہوں گے۔ وزارتِ خارجہ میت کی واپسی کے تمام انتظامی اور عملی مراحل میں مکمل معاونت فراہم کرے گی، تاہم مالی اخراجات مرحوم کے اہل خانہ کو برداشت کرنا ہوں گے۔

ہنگامی صورتحال یا قدرتی آفات کے دوران گولڈن ویزا ہولڈرز کو یو اے ای مشنز کے ذریعے فوری امداد، رہنمائی اور ممکنہ انخلا کے منصوبوں میں شامل کیا جائے گا۔ وزارت نے وضاحت کی ہے کہ یہ سہولت گولڈن ویزا ہولڈرز کے اہلِ خانہ تک بھی بڑھائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ رجسٹرڈ ڈیپنڈنٹس ہوں اور ان کے پاس درست رہائشی اجازت نامہ موجود ہو۔

یہ نیا اقدام یو اے ای حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ملک میں مقیم طویل مدتی ویزا ہولڈرز کو شہریوں کے مساوی تحفظ اور سہولیات فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button