متحدہ عرب امارات

دبئی لوپ 2026 تک فعال ہو جائے گا، یو اے ای وزیر کا انکشاف

خلیج اردو
دبئی: امریکی میڈیا کمپنی بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر وزیر نے کہا ہے کہ موٹرسائیکل اور کار سوار شہری اگلے سال سے ’’دبئی لوپ‘‘ استعمال کر سکیں گے۔ یہ منصوبہ 2026 تک مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔

امریکی ارب پتی اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے رواں سال فروری میں ’’دبئی لوپ‘‘ کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ 17 کلومیٹر طویل زیرِ زمین یہ جدید ٹرانزٹ نظام 11 اسٹیشنوں پر مشتمل ہوگا، جو فی گھنٹہ 20 ہزار سے زائد مسافروں کو تیز، محفوظ اور موسمی حالات سے متاثر ہوئے بغیر سفر کی سہولت فراہم کرے گا۔

دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) اور امریکہ کی دی بورنگ کمپنی کے درمیان اس سال فروری میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے دوران ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد سرنگوں کی کھدائی اور تعمیر کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

بلومبرگ نے اپنی 13 اکتوبر کی رپورٹ میں یو اے ای کے وزیر مملکت برائے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اکانومی اور ریموٹ ورک ایپلیکیشنز عمر سلطان العلماء کے حوالے سے کہا کہ ’’دبئی لوپ‘‘ کا افتتاح آئندہ سال متوقع ہے۔

ایلون مسک نے اسی سال ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے موقع پر عمر سلطان العلماء سے گفتگو میں اعلان کیا تھا کہ ان کی کمپنی محفوظ، تیز رفتار اور کم لاگت ٹنل نیٹ ورک کے ذریعے دبئی کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو تبدیل کرے گی، جو نہ صرف مسافروں بلکہ سامان اور یوٹیلیٹی سروسز کے لیے بھی استعمال ہوگا۔

یہ منصوبہ دبئی میں جدید سرنگی انفراسٹرکچر کے قیام کے طویل المدتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت مسافروں کو بغیر کسی درمیان میں رکے اپنی منزل تک پہنچنے کی سہولت ملے گی۔

روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق، اس ٹیکنالوجی سے زیر زمین نظام کی تعمیر روایتی طریقوں کے مقابلے میں تیزی سے، کم لاگت پر اور موجودہ انفراسٹرکچر یا سڑکوں پر کم سے کم اثرات کے ساتھ مکمل ہوگی۔

شہری منصوبہ بندی کے ماہر ڈاکٹر احمد الملہ نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ دبئی لوپ ٹریفک کے بوجھ میں نمایاں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق، ’’اگر مسافر نجی گاڑیوں کے بجائے اس قابلِ اعتماد زیرِ زمین نظام کا استعمال کریں تو سطحی سڑکوں پر رش میں واضح کمی آ سکتی ہے۔‘‘

تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اسٹیشنوں کے محلِ وقوع پر ہے۔ ’’دبئی لوپ کو ایسے علاقوں میں تعمیر کیا جانا چاہیے جہاں سفری طلب زیادہ ہو، اور اسے دبئی میٹرو، اتحاد ریل اور بس نیٹ ورک جیسے موجودہ اور آئندہ ٹرانزٹ نظاموں کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے۔‘‘

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button