متحدہ عرب امارات

**امریکی مشیر کی خفیہ فائل اور چینی حکام سے ملاقاتوں پر گرفتاری**

**خلیج اردو**

واشنگٹن: بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف امریکی مشیر ایشلے ٹیلس کو خفیہ سرکاری دستاویزات رکھنے اور چینی حکام سے رابطوں کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 64 سالہ ٹیلس کے گھر سے ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل خفیہ اور انتہائی خفیہ سرکاری دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔ عدالت میں جمع کرائی گئی حلفیہ دستاویز کے مطابق ٹیلس نے 25 ستمبر کی شب محکمہ خارجہ کے دفتر میں داخل ہو کر امریکی فضائیہ کی تکنیک سے متعلق ایک خفیہ فائل پرنٹ کی۔

دستاویز میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹیلس نے واشنگٹن کے مضافاتی علاقے فئرفیکس کی ایک ریستوران میں متعدد بار چینی حکومتی اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ ایک ملاقات میں وہ فائلوں والا لفافہ لے کر گئے مگر واپس آتے وقت وہ لفافہ ان کے پاس نہیں تھا، جبکہ دو مواقع پر چینی حکام نے انہیں تحفے کے بیگ بھی دیے۔

محکمہ انصاف کے مطابق اگر الزامات ثابت ہوئے تو ٹیلس کو 10 سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

امریکی اٹارنی لنڈسی ہیلیگن نے کہا کہ “یہ الزامات قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔” محکمہ خارجہ کے مطابق ٹیلس کو اس روز گرفتار کیا گیا جب وہ روم روانہ ہونے والے تھے۔

ٹیلس، جو بھارت میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں امریکی شہریت حاصل کی، کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے منسلک ہیں۔ وہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور امریکہ۔بھارت سول نیوکلیئر معاہدے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

تاہم حالیہ برسوں میں وہ امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے، خصوصاً بھارت کے روس اور ایران سے تعلقات پر۔ انہوں نے فارن افیئرز میں اپنے مضمون میں کہا تھا کہ بھارت کی پالیسیاں کئی مواقع پر امریکہ سے متصادم ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button