اگر کوئی آپ سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کر دے تو کیا کرنا چاہیئےَ شارجہ پولیس نے ہیک ہونے والے 210 اکاؤنٹس ریکور کر لیے۔
خلیج اردو
13 فروری 2021
شارجہ : شارجہ پولیس کے محکمہ فوجداری تحقیقات کے سائبر کرائم سیکشن میں 2020 کے دوران 210 ہیک ہیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس ریکور کرائے ہیں جس کے بعد 125 ملزمان کے کیسز کو پبلک پراسیکیوشن کے پاس بھیج دیا گیا ہے ۔ شارجہ پولیس نے سائبر کرائم کے شکار متاثرین کی ایک بڑی تعداد کو فوری طور پر مدد فراہم کی تاکہ ان کو قابل بنائے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ کو جعلسازوں سے ریکور کراسکیں۔
ایک اہلکار کے مطابق وہ رہائشی جن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہو چکے ہیں وہ ای کرائم ویب سائٹ کے ذریعے شارجہ پولیس سے شکایت کرسکتے ہیں یا اپنے اکاؤنٹس کی ریکوری کیلئے پولیس سے براہ راست مدد طلب کرسکتے ہیں۔
شارجہ پولیس نے سوشل میڈیا صارفین کو ان کے اکاؤنٹس ہیک ہونے کے امکان کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اکاؤنٹس کا استعمال ہیکرز نے ذاتی مقاصد کیلئے کیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ عوام میں شعور بیدار کرنے اور ہیکنگ کے کسی بھی معاملے کو جلد از جلد کاروائیکیلئے فوجداری تحقیقاتی محکمہ میں رپورٹ کرنا انتہائی ضروری ہے۔
شارجہ پولیس میں محکمہ برائے جرائم کی تفتیش کے ڈائریکٹر کرنل عمر احمد ابو ال الزؤد نے کہا ہے کہ جن رہائشیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہیں وہ کہیں سے بھی پولیس سے رابطہ کرکے فوری تکنیکی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔
ریکور ہونے والے 210 اکاؤنٹس میں واٹس ایپ ، انسٹاگرام ، فیس بک اور اسنیپ چیٹ کے اکاؤنٹس شامل تھے ۔ پولیس نے شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اجنبی افراد سے آن لائن معاملات کا تبادلہ کرتے وقت محتاط رہیں اور ان کے ساتھ کبھی بھی کسی ذاتی معلومات کو شیئر نہ کریں۔
سب سے عام سائبر جرائم میں الیکٹرانک فراڈ ، بلیک میلنگ یا بھتہ خوری شامل ہیں۔ یہ جرائم عام ہیں کیونکہ ان کا ارتکاب دنیا میں کہیں سے بھی کرنا آسان ہے۔ انٹرنیٹ کے زیادہ تر صارفین اپنے اکاؤنٹس کی حفاظت کیلئے درکار خاطر خواہ حفاظتی اقدامات نہیں کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کے اکاؤنٹس ہیک ہوجاتے ہیں۔
ڈائریکٹر کرنل عمر احمد ابو ال الزؤد نے کہا کہ عدالتی افسران کے ذریعہ الیکٹرانک فراڈ کے کیسز کو حل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ کیونکہ جرائم کے منظر کی نشاندہی کرنے اور جرائم کے آلہ کاروں پر مہر لگانے میں بہت سارے چیلنجز ہیں ، خاص طور پر اگر یہ جرم متحدہ عرب امارات کے باہر سے سرزد ہوا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ہر قسم کے انٹرنیٹ جرائم کے خلاف لڑنے کیلئے کام کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ تعاون کی وجہ سے مختلف کیسز میں دیگر معاملات میں ملک کے اندر اور باہر سے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں فیڈرل لا انفارمیشن ٹکنالوجی کے جرائم کے تحت سائبر کرائم یا دھوکہ دہی قابل سزا جرم ہے۔ جس میں ایک سال سے کم کی قید اور ایک ملین درہم تک جرمانہ کی سزا موجود ہے۔ سزا پوری ہونے کے بعد جلاوطنی بھی ہوتی ہے۔
کرنل ابو الاؤد نے کہا کہ شارجہ پولیس کا آن لائن مونیٹرنگ سسٹم چوبیس گھنٹے سائبرورلڈ میں مجرمانہ سرگرمی کی نگرانی کرتا ہے اور ایسے لوگوں کو پکڑتا ہے جو سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہیں اور بلیک میلنگ کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے ٹیلی مواصلات اتھارٹی کے تعاون سے متعدد مشکوک اکاؤنٹس اور ویب سائٹیں بند کردییے ہیں اور ان کے آپریٹرز یا مالکان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں عام آدمی کو آگاہی فراہم کرنے کیلئے شارجہ پولیس مختلف مہمان چلاتیں ہیں۔
شارجہ پولیس جنرل کمانڈ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی طرح کی انلائن بلیک ملینگ کا سامنا ہو یا جن کے اکاؤنٹس کو ہیک کیا گیا ہے وہ اس حوالے سے داد رسی کیلئے محکمہ فوجداری تفتیش کے سائبر کرائم ونگ کو رپورٹ کریں۔ یا فون نمبر 065943228 پر اور واٹس ایپ نمبر 0559992158 کے ذریع فوری اپنی شکایت درج کرئیں۔
Source : Gulf News







