
خلیج اردو
15 فروری 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات ایک ایسے سروسز کو ڈیویلپ کرنے کے مراحل میں ہے جہاں ٹیکنالوجی کے استعمال سے چہرے کی شناخت ہو پائے گی۔ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں یہ ٹیکنالوجی مددگار ہوگی اور یہاں روایتی طریقوں کے شناخت کے بجائے ٹیکنالوجی کی مدد سے آئی ڈیز کی تصدیق ہو پائے گی ۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ رویتی شناخت کارڈ یا دیگر آئی ڈیز کی ضرورت ہی ختم ہو۔
اس بات کا فیصلہ دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا ۔ اتوار کو ہونے والے اس اجلاس میں کابینہ نے چہرے کو پہچاننے والئ ٹیکنالوجی کی منظوری دی جس کے ذریعے انسان کی شناخت ہو پائے گی اور یہ فرسودہ کاغزات کے نظام سے جدید طریقے سے انسان کی شناخت کے نظام کیلئے ایک قدم ہے۔
اعتمدنا خلال اجتماعنا اليوم بدء تجربة بصمة الوجه في بعض خدمات القطاع الخاص للتأكد من الهوية الشخصية للأفراد بدل تقديم الكثير من الأوراق للتأكد من البيانات الشخصية .. تجربة تقودها وزارة الداخلية وفي حال نجاحها سيتم تعميمها .. لتسهيل حياة المتعاملين pic.twitter.com/VLLO1JQvv2
— HH Sheikh Mohammed (@HHShkMohd) February 14, 2021
اس کی اجازت وزارت داخلہ نے دی ہے جہاں وزارت داخلہ اس کی ملک بھر میں مزید استعمال کو پھیلائے گی اور اس منصوبے کو فی الحال آزمائشی بنیادوں پر چلایا جائے گا اور خاطرخواہ نتائج کے بعد اسے امپلیمنٹ کیا جائے۔ کابینہ نے انلائن کام کرنے سے متعلق نئے ٹیم بنانے کی منظوری بھی دی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کام کا طریقہ کار الگ ہوگا اور انداز بدلیں گے۔ اجلاس کے دوران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے متحدہ عرب امارات کے مشن ہوپ کے ثمرات سے نوجوان نسل کو اگاہ کرنے اور ان کی اس معاملے میں شراکت داری کیلئے اقدامات کی ہدایت دی۔
Source : Khaleej Times







