
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مقیم 40 سالہ اردنی خاتون سمر نے چھاتی کے تیسرے درجے کے سرطان کی تشخیص کے بعد حمل کے دوران کیموتھراپی کروائی اور ایک صحت مند بچے کو جنم دیا۔ چار بچوں کی والدہ سمر پانچویں ماہ کے حمل میں تھیں جب انہیں چھاتی میں درد اور سوجن محسوس ہوئی۔ ابتدا میں انہوں نے ان علامات کو حمل کے دوران جسم میں آنے والی معمول کی تبدیلی سمجھا، تاہم طبی معائنے کے بعد چھاتی کے سرطان کی تشخیص ہوئی۔
سمر کے مطابق ستمبر 2025 میں چھاتی میں درد اور سوجن شروع ہوئی تھی۔ انہیں محسوس ہوا کہ جسم بچے کی پیدائش اور اسے دودھ پلانے کی تیاری کررہا ہے، اس لیے انہوں نے ان علامات کو معمول کا حصہ سمجھا۔ لیکن تکلیف برقرار رہنے پر انہوں نے ابوظبی کے برجیل کینسر انسٹی ٹیوٹ سے رجوع کیا، جہاں مزید طبی معائنے کے بعد سرطان کی تصدیق ہوگئی۔
تشخیص کے بعد ڈاکٹروں نے کیموتھراپی تجویز کی تو سمر کو اپنے ساتھ پیدا ہونے والے بچے کی صحت اور علاج کے اثرات کے حوالے سے تشویش لاحق ہوئی۔
برجیل بریسٹ سینٹر کی ڈائریکٹر اور کنسلٹنٹ میڈیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر دیما عبدالجبّار نے بتایا کہ حمل کے دوران چھاتی کے سرطان کی تشخیص مشکل ہوسکتی ہے، کیونکہ اس کی بعض علامات حمل کے دوران ہونے والی معمول کی جسمانی تبدیلیوں سے ملتی جلتی ہیں۔
ان کے مطابق سمر چھاتی میں درد اور سوجن کو دودھ پلانے کی تیاری کے دوران غدود میں ہونے والی تبدیلی سمجھ رہی تھیں، تاہم یہ علامات دراصل بیماری کی نشاندہی کررہی تھیں۔
ڈاکٹرز نے ایسا علاج تجویز کیا جس سے سمر کے سرطان کا علاج بھی ممکن ہو اور پیٹ میں موجود بچے کی صحت کو بھی مدنظر رکھا جاسکے۔ ڈاکٹر دیما کے مطابق حمل کے مخصوص مراحل میں بعض اقسام کی کیموتھراپی دی جاسکتی ہیں، تاہم اس کا انحصار سرطان کی قسم، اس کے مرحلے اور حمل کی مدت پر ہوتا ہے۔
ڈاکٹروں کی مسلسل نگرانی میں سمر نے حمل کے پانچویں ماہ میں کیموتھراپی شروع کی اور بچے کی پیدائش سے دو ہفتے پہلے تک علاج جاری رکھا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا جس کا نام الیاس رکھا گیا۔
بچے کی پیدائش کے بعد سمر نے دو ہفتے آرام کیا اور دوبارہ کیموتھراپی شروع کردی۔ اس کے بعد ان کی دائیں چھاتی نکالنے کے لیے سرجری کی گئی اور انہوں نے تجویز کردہ کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی بھی مکمل کرلی۔ اب وہ چھاتی کی دوبارہ تعمیر کی سرجری کی منتظر ہیں۔
شوہر نے بھی سر منڈوا کر ساتھ دیا
علاج کے مشکل مراحل میں سمر کے خاندان نے انہیں حوصلہ دیا، تاہم ان کے شوہر کا ایک اقدام ان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ سمر کے مطابق کیموتھراپی کے باعث جب ان کے بال گرنا شروع ہوئے تو شوہر نے بھی اپنا سر منڈوا لیا تاکہ انہیں احساس ہو کہ وہ اس مشکل وقت میں اکیلی نہیں ہیں۔
سمر نے کہا کہ شوہر کا یہ بظاہر معمولی اقدام ان کے لیے بہت معنی رکھتا تھا اور اس سے انہیں مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت ملی۔
ڈاکٹر دیما کے مطابق سمر کی سب سے بڑی خواہش صحت یاب ہوکر اپنے بچوں کے پاس واپس جانا اور معمول کی زندگی دوبارہ شروع کرنا تھی۔ سرطان کی تشخیص کے ایک سال کے اندر کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی مکمل کرنے کے بعد سمر اب اپنے چار بچوں، بشمول نومولود الیاس، کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔
ڈاکٹروں نے اس تجربے کی روشنی میں حاملہ خواتین کو خبردار کیا ہے کہ چھاتی میں درد، سوجن یا غیر معمولی تبدیلیوں کو محض حمل کا معمول کا اثر سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ اگرچہ حمل کے دوران چھاتی میں بہت سی تبدیلیاں معمول کے مطابق ہوتی ہیں، تاہم مسلسل برقرار رہنے والی علامات کا ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے تاکہ چھاتی کے سرطان سمیت دیگر بیماریوں کی بروقت تشخیص ہوسکے۔







