عالمی خبریں

اسرائیلی فوج نے ایران پر حملے کے 3 منصوبے بنائے، فوجی سربراہ کا انکشاف

خلیج اردو

تل ابیب: اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل اویو کوچاوی نے انکشاف کیا ہے کہ فوج نے ایران پر جوابی حملے کے لیے گزشتہ ایک سال کے دوران تین منصوبے بنائے تھے اور ان کا بنیادی مقصد ایران کی جوہری تنصیبات اور اس کی مدد کرنے والے منصوبوں کو تباہ کرنا تھا۔

اسرائیلی فوج کے سبکدوش ہونے والے چیف آف اسٹاف جنرل اویو کوچاوی نے بحیثیت فوجی سربراہ اپنے آخری میڈیا انٹرویو میں ’اسرائیل ہایوم‘ سے گفت و شنید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی وقت بڑی جنگ میں داخلے کی ضرورت ہوتی ہے تو اس مقصد کے لیے اضافی فوجی مقامات اور موجود فوجی اثاثوں کو نئی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔

اسٹاف جنرل اویو کوچاوی نے بتایا کہ یہ منصوبے جوہری پروگرام کے متعلق نہیں تھے بلکہ جوابی حملے کے طور پر تھے، حملوں کا مقصد جوہری تنصیبات اور جوہری تنصیبات کو مدد کرنے والے منصوبوں کو تباہ کرنا تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی بڑی جنگ میں داخل ہونے کی بات آتی ہے تو اضافی فوجی مقامات اور اثاثے اہداف کی فہرست میں شامل کیے جائیں گے، ان کا یہ بیان اسی کے مطابق ہے جو اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کوچاوی کی آخری تقریر کے بارے میں عربی میں شائع کیا تھا۔

عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ آج ایران کے پاس چار جوہری بم بنانے کے لیے کافی افزودہ مواد موجود ہے، تین 20 فیصد کی سطح پر اور ایک 60 فیصد کی سطح پر ہے۔

انہوں نے حزب اللہ کو خبردار کیا کہ فوج نے اس کے لیے جارحانہ منصوبے بھی تیار کر لیے ہیں، اگر اس نے صورت حال کو مزید خراب کرنے کا فیصلہ کیا تو ان منصوبوں پر عمل کیا جائے گا۔

جنرل کوچاوی نے مزید کہا کہ ہم دو اہم چیزوں پر کام کر رہے ہیں، پہلا ایرانی میزائلوں کا پتہ لگانا تاکہ عمل درآمد کے دن ہم ان میں سے زیادہ سے زیادہ پر حملہ کریں، دوسرا ان میزائلوں کو بے اثر کرنے کے لیے فضائی دفاعی نظام قائم کرنا ہے۔

انتہائی دلچسپ بات ہے کہ جنرل اویو کوچاوی کا عبرانی زبان میں ہونے والے انٹرویو کو اہتمام کے ساتھ عربی زبان میں بھی شائع کیا گیا ہے جب کہ اس کے انگریزی ترجمے کی دستیابی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت ایک روایت کے تحت میڈیا کو انٹرویو دیتے ہیں جس میں کئی انکشافات و اعترافات بھی کیے جاتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button