عالمی خبریں

امریکا میں والدین کی قتل ،بیٹی نے لاشوں کے ٹکرے بنا ڈالے

خلیج اردو

واشنگٹن :امریکہ میں ایک خاتون نے اپنے والدین کو بے دردی سے قتل کرکے لاشوں کو ٹکرے کر دیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 39 سالہ ویریٹی بیک پر فرسٹ ڈگری قتل کے دو ، تھرڈ ڈگری قتل کے دو اور دیگر جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ اس نے اپنے والدین ریڈ بیک اور مریم بیک کی لاشوں کو بجلی والے آرے سے کاٹا، ملزمہ کو پنسلوانیا کی ایک مقامی عدالت میں پیش کیا گیا اور اسے ضمانت کے بغیر حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

میڈیا نے مونٹگمری کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کیون سٹیل کے حوالے سے بتایا کہ پولیس کو ابھی تک اس بہیمانہ قتل کی کوئی وجہ نہیں ملی ہے، لیکن تفتیش کاروں کو ایک سیف ملا ہے جس کو کسی نے توڑنے کی کوشش کی تھی۔

یہ جرم فلاڈیلفیا کے قریب ایک قصبے ایبنگٹن میں پیش آیا جو پولیس افسر کے بیک ہاؤس کا دورہ کرنے کے بعد منظر عام پر آیا۔

انہوں نے اس جگہ کا دورہ اس وقت کیا جب ایک رشتہ دار نے کہا کہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے جوڑے کی کوئی آواز سنائی نہیں دی۔

سی بی ایس فلاڈیلفیا نے کہا کہ پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی کو سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا اس کے بعد بجلی والے آرے سے دونوں کی لاشوں کو کاٹا گیا ۔

مقتولین کے بیٹے نے حکام کو بتایا کہ اسے یقین ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے اپنے والدین کو ٹیکسٹ کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق اس کی بہن تھی جو کہ مقتولین کی فون استعمال کر رہی تھی۔

حکام کے مطابق قتل کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

پولیس کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ مریم بیک 2018 میں لوئر مورلینڈ ہائی اسکول میں اسکول نرس کی ملازمت سے ریٹائر ہوگئیںتھی ۔

حکام کے مطابق دونوں متاثرین کی موت سر پر گولی لگنے سے ہوئی ہےجبکہ گھر سے آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button