
**خلیج اردو**
دبئی: دبئی میں سونا 500 درہم فی گرام کی تاریخی حد عبور کر چکا ہے جس کے بعد زیورات خریدنے کے رجحان میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ تاجر بتا رہے ہیں کہ اب بہت سے خریدار سونے کے بجائے پلاٹینم اور ملے جلے دھاتوں کے زیورات کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ سونا زیادہ تر سرمایہ کاری کے طور پر خریدا جا رہا ہے۔
زیورات کی دکانوں کے مطابق تہواروں کے موسم میں گاہکوں کی آمد برقرار ہے لیکن خریدے جانے والے سونے کا وزن کم ہو گیا ہے۔ خریدار پہلے کی طرح ہی رقم خرچ کر رہے ہیں مگر بڑھتی قیمتوں کے باعث انہیں اس کے بدلے کم سونا مل رہا ہے۔
کنز جیولز کے ڈائریکٹر ارجن دھناک کے مطابق "خریدار اب بھی پہلے جتنی ہی رقم خرچ کر رہے ہیں، مگر قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے سونا کم مل رہا ہے۔ لوگ اب سونا زیادہ تر سرمایہ کاری کے لیے خریدتے ہیں جبکہ زیورات کی خریداری کا رجحان ہلکے وزن کے ڈیزائنز یا پتھروں کے امتزاج والی اشیا کی طرف بڑھ گیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ پلاٹینم خاص طور پر مردوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے کیونکہ اس کی قیمت سونے سے تقریباً 40 فیصد کم ہے۔ "ایک وقت تھا جب پلاٹینم سونے سے مہنگا تھا، لیکن اب صورتحال الٹ چکی ہے،” انہوں نے بتایا۔
مالابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز کے ریٹیل ہیڈ وویک جے نے کہا کہ "ہم نے دیکھا ہے کہ پلاٹینم زیورات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر جوڑوں کے بینڈز اور مردوں کے زیورات میں۔ اگرچہ سونے کی طلب کم نہیں ہوئی، مگر پلاٹینم نے ایک مضبوط متبادل کے طور پر اپنی جگہ بنائی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران پلاٹینم کی فروخت میں بتدریج اضافہ ہوا ہے اور رواں مالی سال میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ "مردوں کے پلاٹینم بینڈز، بریسلٹس اور انگوٹھیاں 75 فیصد تک زیادہ فروخت ہو رہی ہیں۔”
تاجروں کے مطابق پلاٹینم کے چمکدار رنگ اور جدید ڈیزائن اسے فیشن کے لحاظ سے پسندیدہ بنا رہے ہیں، جبکہ سونا بدستور محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق دبئی کی جیولری مارکیٹ نئے رجحانات کے ساتھ تیزی سے مطابقت اختیار کر رہی ہے — سونا اب بھی سرمایہ کاری کے لیے اولین انتخاب ہے، جبکہ فیشن کے شوقین خریداروں کے لیے پلاٹینم نئی چمک کے ساتھ ابھر رہا ہے۔
—
