متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے اسکولوں کا ’سمر سلائیڈ‘ سے خبردار، گرمیوں کی تعطیلات میں طلبہ 30 فیصد تک تعلیمی صلاحیت کھو سکتے ہیں

لیج اردو

متحدہ عرب امارات میں گرمیوں کی تعطیلات کے آغاز سے قبل ماہرین تعلیم نے والدین کو "سمر سلائیڈ” کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق طویل تعطیلات کے دوران بچے اپنی 20 سے 30 فیصد تک تعلیمی پیش رفت کھو سکتے ہیں، جبکہ ریاضی کی صلاحیتیں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

این ڈبلیو ای اے کے 2024-2025 میپ گروتھ ڈیٹا اور سمر پروگراموں کے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ صرف چھ ہفتوں کے دوران طلبہ ریاضی میں اوسطاً 2.6 ماہ تک کی تعلیمی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کو آرام کا موقع فراہم کرتی ہیں، لیکن اس دوران تعلیمی کارکردگی میں کمی بھی واقع ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر فنکے بافور اوواہ نے کہا کہ والدین کو تعطیلات کے دوران بچوں پر روایتی پڑھائی کا بوجھ ڈالنے کے بجائے سیکھنے کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق بچوں کے ساتھ دلچسپ کتابیں پڑھنا، عجائب گھروں کی سیر کرنا اور کھانا پکاتے وقت پیمائش، سائنس اور ثقافت پر گفتگو کرنا مؤثر تعلیمی سرگرمیاں ثابت ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ جو بچے گرمیوں میں باقاعدگی سے بغیر دباؤ کے مطالعہ کرتے ہیں، وہ نئے تعلیمی سال میں زیادہ مضبوط بنیادوں کے ساتھ واپس آتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تعطیلات کو اسکول کا متبادل بنانے سے بھی گریز کرنا چاہیے کیونکہ بچوں کو ذہنی اور جسمانی آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر جان رابرٹ براؤن نے کہا کہ گرمیوں کی چھٹیاں تجرباتی تعلیم کے لیے بہترین وقت ہیں۔ ان کے مطابق سفر، خریداری، کھیل اور دیگر عملی سرگرمیوں کے ذریعے بچے جیومیٹری، شماریات اور الجبرا جیسے مضامین کو حقیقی زندگی میں سمجھ سکتے ہیں۔

انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کریں اور انہیں زیادہ سے زیادہ وقت کھلی فضا میں گزارنے کی ترغیب دیں، کیونکہ کھیل کے میدان تعاون، مقابلہ، برداشت اور صحت مند طرزِ زندگی جیسے اہم اسباق سکھاتے ہیں۔

پریٹی کھوسلا نے کہا کہ گرمیوں میں تعلیمی سرگرمیوں کے لیے شدت نہیں بلکہ تسلسل ضروری ہے۔ ان کے مطابق روزانہ صرف 15 سے 20 منٹ کی بامقصد سرگرمی طلبہ کی تعلیمی مہارتوں کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات اعتماد، تخلیقی صلاحیت، مواصلاتی مہارت، ٹیم ورک، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری جیسی اہم زندگی کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا بھی بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ کھانا پکانے، بجٹ بنانے، رضاکارانہ خدمات اور انٹرن شپ جیسی سرگرمیاں بچوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق والدین کو ایسا متوازن شیڈول اختیار کرنا چاہیے جس میں سیکھنے، کھیل، تفریح اور آرام سب کو مناسب جگہ دی جائے تاکہ بچے نئے تعلیمی سال کا آغاز تازہ دم اور پراعتماد انداز میں کر سکیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button