
خلیج اردو
دبئی میں بچوں کے لیے موزوں اسکول کا انتخاب والدین کے لیے ایک اہم فیصلہ ہوتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اسکول کی ریٹنگز پر انحصار کرنا درست نہیں۔ دبئی میں دو سو سے زائد نجی اسکول مختلف نصاب پیش کرتے ہیں، اور ان کی ریٹنگز جیسے ’اچھی‘، ’بہت اچھی‘ یا ’شاندار‘ لازمی طور پر مجموعی تعلیمی معیار یا طلبہ کے تجربے کی مکمل عکاسی نہیں کرتیں۔
ہیڈ ٹیچرز اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اسکول کا ماحول، تدریسی انداز، طلبہ کی فلاح و بہبود، اور اساتذہ و طلبہ کے تعلقات ریٹنگز سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہیمپٹن ہائٹس انٹرنیشنل اسکول کی پرنسپل لوئڈمیلا کلیکووا کے مطابق، ’’انسپیکشن ریٹنگز اسکول کی ایک جھلک دکھاتی ہیں، مگر وہ اس کی روح نہیں دکھا سکتیں۔ ہمارے لیے اہم ہے طلبہ کا احساسِ وابستگی، اساتذہ کی محبت، اور ہر بچے کی انفرادی ترقی کا خیال۔‘‘
اسی طرح جیمز فرسٹ پوائنٹ اسکول کے پرنسپل ڈیوڈ ویڈ کا کہنا ہے کہ ’’ریٹنگز مفید ہیں، مگر وہ اس بات کو ظاہر نہیں کرتیں کہ اسکول کا روزمرہ ماحول کیسا ہے، یا اساتذہ طلبہ کے ساتھ جذباتی طور پر کس طرح جڑے ہوئے ہیں۔‘‘
ماہرین کے مطابق والدین کو اسکول کے انتخاب میں درج ذیل نکات پر توجہ دینی چاہیے:
* اسکول کے نظریے اور فلسفے کو سمجھیں، کیونکہ یہی اس کی تدریسی سمت طے کرتا ہے۔
* عمارت یا فیس کے بجائے تدریس کے معیار کو ترجیح دیں۔
* بچوں کی ذہنی صحت اور بہبود کے اقدامات کا جائزہ لیں۔
* نصاب کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں، کھیلوں اور فنونِ لطیفہ کے مواقع پر بھی غور کریں۔
* اسکول کی شمولیت (Inclusion) اور تنوع کے حوالے سے پالیسی دیکھیں۔
* دیکھیں کہ اسکول جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اختراعات کو کس حد تک تعلیم میں شامل کر رہا ہے۔
* یونیورسٹی اور کیریئر رہنمائی کے انتظامات کو بھی مدنظر رکھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہترین اسکول وہ نہیں جو سب سے زیادہ ریٹنگ رکھتا ہو بلکہ وہ ہوتا ہے جو بچے کی شخصیت، رفتار اور صلاحیت کے مطابق ہو۔






