
خلیج اردو
شارجہ، 15 اکتوبر 2025
اسرائیلی فوج کے ہاتھوں چھ دن قید میں رہنے کے بعد ڈاکٹر زہیرا سومر شارجہ واپس پہنچ گئیں۔ جنوبی افریقی نژاد یہ کارکن غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے نکلنے والے عالمی "سمود فلوٹیلا” مشن کا حصہ تھیں۔ خلیج ٹائمز سے گفتگو میں ڈاکٹر زہیرا نے بتایا کہ اسرائیلی قید میں گزرا ہر لمحہ ان کے لیے ایک آزمائش تھا مگر اس تجربے نے فلسطینی عوام کی آزادی کے لیے ان کے عزم کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
ڈاکٹر زہیرا سومر کو پیر کے روز جنوبی افریقہ روانہ کیا گیا اور منگل کی صبح وہ شارجہ واپس پہنچیں۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر ممالک کے کارکنوں کو پہلے ہی رہا کر دیا گیا تھا، مگر جنوبی افریقی گروپ کو سب سے آخر میں اسرائیلی حراست سے نکالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم خوفزدہ تھے کہ کہیں ہمیں مزید دنوں کے لیے نہ روک لیا جائے، مگر خوش قسمتی سے اگلے دن ہمیں رہا کر دیا گیا۔”
ڈاکٹر زہیرا کے مطابق ان سمیت دیگر خواتین کو چھ دن تک تنگ و تاریک سیلوں میں رکھا گیا، قونصلر حکام سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، اور گارڈز کا رویہ سخت تھا۔ "کئی لمحے ایسے آئے جب مجھے اپنی جان کا خوف محسوس ہوا، مگر ذہنی طور پر خود کو مضبوط رکھا”، انہوں نے بتایا۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے اس مشن میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو ان کی والدہ نے سخت مخالفت کی، مگر بعد میں حالات کو قبول کر لیا۔ تاہم جب اسرائیلی فورسز نے فلوٹیلا کو روکا تو کئی دن تک ان کی خیریت معلوم نہ ہونے کے باعث ان کے اہل خانہ سخت پریشان رہے۔
ڈاکٹر زہیرا سومر نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ چونکہ وہ خود جنوبی افریقہ کے نسل پرست دور میں پلی بڑھی ہیں، اس لیے انصاف، مساوات اور آزادی کے لیے جدوجہد ان کے لیے ذاتی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محض بیانات سے بات آگے نہیں بڑھتی، اسی لیے انہوں نے دنیا بھر کے سینکڑوں رضاکاروں کے ساتھ "گلوبل سمود فلوٹیلا” میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ غزہ کے عوام تک انسانی امداد پہنچائی جا سکے اور اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کیا جا سکے۔
یہ بحری مشن ستمبر کے آخر میں روانہ ہوا تھا لیکن اکتوبر کے آغاز میں اسرائیلی بحریہ نے اس کے جہازوں کو روک لیا۔
ڈاکٹر زہیرا سومر نے حالیہ جنگ بندی پر بھی شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ اگرچہ امریکہ کی ثالثی سے حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ہوا ہے، مگر اسرائیلی حکومت نے ایک بار پھر امداد اور ایندھن کی فراہمی روکنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے غزہ کے عوام بدستور مشکلات کا شکار ہیں۔






