
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی قومی میڈیا اتھارٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جمال محمد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ مواد شیئر کرنے کے سنگین قانونی نتائج ہو سکتے ہیں، اور بعض صورتوں میں جیل تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حتیٰ کہ واٹس ایپ کے نجی فیملی گروپس بھی قانون کی نظر میں میڈیا پلیٹ فارم تصور کیے جاتے ہیں، اس لیے وہاں شیئر کیا گیا غیر قانونی مواد بھی قابلِ گرفت ہے۔
اہم خلاف ورزیوں کی مثالیں:
- مذہبی اقدار کی توہین: ایک ویڈیو میں اسلامی عقائد سے متعلق حساس معاملے پر غیر مناسب انداز اپنانے پر کارروائی کی گئی۔
- پولیس کی تضحیک یا بغیر اجازت ریکارڈنگ: ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکاروں کی ویڈیو بنا کر آن لائن شیئر کرنا جرم قرار دیا گیا۔
- قومی لباس کی توہین: کاندورہ کو غیر مناسب یا تضحیک آمیز انداز میں استعمال کرنا قابل سزا عمل ہے۔
- قومی کرنسی کا غلط استعمال: پروموشنل ویڈیوز میں درہم کو تجارتی یا غیر مناسب انداز میں استعمال کرنے پر کارروائی کی گئی۔
- پرائیویسی کی خلاف ورزی: بغیر اجازت افراد کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
- فیک نیوز (کووِڈ-19 کیس): ایک جعلی خبر میں ایک خاندان کی اموات کی جھوٹی کہانی پھیلانے پر افراد کو گرفتار کیا گیا۔
- سیکیورٹی کیس سے متعلق جھوٹی معلومات: ایران سے منسلک ایک کیس میں غیر تصدیق شدہ معلومات پھیلانے پر بھی سزائیں دی گئیں۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ ٹک ٹاک پر تقریباً 10 ہزار اکاؤنٹس حذف کیے گئے جو جھوٹی معلومات اور منفی مواد پھیلا رہے تھے۔
اس کے ساتھ گیمنگ انڈسٹری کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب مکمل پابندی کے بجائے عمر کی درجہ بندی کے نظام کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔
ڈاکٹر الکعبی کے مطابق مقصد آزادی کو محدود کرنا نہیں بلکہ معاشرتی اقدار، قومی مفاد اور درست معلومات کے ماحول کو محفوظ بنانا ہے۔







