متحدہ عرب امارات

بھارت کے میڈیکل داخلہ امتحان میں پرچہ لیک اسکینڈل کے بعد دوبارہ امتحان، لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات نافذ

خلیج اردو
بھارت کے قومی ٹیسٹنگ ادارے نے میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم میں داخلے کے لیے منعقد ہونے والے قومی امتحان کو منسوخ کرنے کے بعد 21 جون 2026 کو دوبارہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔

یہ امتحان 22 لاکھ 80 ہزار سے زائد طلبہ کے لیے لازمی سمجھا جاتا ہے۔ 3 مئی کو ہونے والے امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سوالیہ پرچہ افشا ہونے کی اطلاعات سامنے آنے پر حکام نے امتحان منسوخ کر دیا تھا۔

20 سے 25 الفاظ کا مختصر تعارف:
پرچہ لیک اسکینڈل کے بعد لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے، جبکہ حکام دوبارہ امتحان کو شفاف بنانے کے لیے سخت ترین حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق اصل امتحانی پرچے اور لیک ہونے والے سوالات میں مماثلت پائی گئی جس کے بعد کثیر ریاستی تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ 12 مئی 2026 کو مرکزی تحقیقاتی بیورو نے تحقیقات سنبھال لیں اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

تحقیقات کے دوران تقریباً 50 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ مرکزی ملزم کیمسٹری کے لیکچرر پی وی کلکرنی کو قرار دیا گیا ہے، جس کے بارے میں تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ اسے سوالیہ پرچوں تک رسائی حاصل تھی۔ اس کے ساتھ منیشا واگھمارے سمیت دیگر افراد پر بھی طلبہ کو مبینہ طور پر لیک شدہ مواد فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔

قومی ٹیسٹنگ ادارے نے دوبارہ امتحان کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے یا فروخت کیے جانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں "جھوٹی اور گمراہ کن اطلاعات” قرار دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ دھوکا دہی کرنے والے گروہ طلبہ اور والدین کی پریشانی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوبارہ امتحان کے لیے سوالیہ پرچہ تیار کرنے والے اور امتحانی عمل سے وابستہ افراد کو خفیہ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سخت نگرانی اور تنہائی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امتحان کے تمام مراحل کو الگ الگ رکھا گیا ہے تاکہ کسی ایک فرد کو مکمل نظام تک رسائی حاصل نہ ہو۔

قومی ٹیسٹنگ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ کے مطابق بھارتی فضائیہ سوالیہ پرچوں کی ترسیل میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ 21 جون کو ہونے والے امتحان کے دوران ملک بھر میں تقریباً پانچ لاکھ سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نگرانی کے کیمرے بھی استعمال کیے جائیں گے۔

یہ معاملہ بھارت کے تعلیمی نظام میں شفافیت، امتحانی سیکیورٹی اور طلبہ کے اعتماد کی بحالی کے حوالے سے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button