
خلیج اردو
عمان نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ دنوں ایک بحری جہاز کے حادثے کے بعد ہونے والے تیل کے اخراج کے اثرات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عمانی فوڈ سیفٹی اینڈ کوالٹی سینٹر کے مطابق ماہرین ماہی گیری کے علاقوں کی نگرانی، تحقیقات اور فیلڈ انسپیکشن کے ذریعے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ تیل کے اخراج سے سمندری ماحول اور ماہی گیری کی صنعت کس حد تک متاثر ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ احتیاطی اقدامات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے، جن میں مچھلیوں کی اترائی کے مراکز، پروسیسنگ پلانٹس اور مچھلی منڈیوں کی نگرانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ماہی گیری کی سرگرمیوں، مچھلیوں کے ذرائع اور ساحل پر آنے والی کھیپوں کا بھی ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ مچھلیوں کے نمونے جمع کرکے ان کے مختلف ٹیسٹ بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ سمندری خوراک کے محفوظ ہونے کی تصدیق کی جا سکے۔
عرب بحیرہ سے ملحقہ صوبوں کے ساحلی علاقوں اور ماہی گیری کے مراکز کی نگرانی کے لیے خصوصی تکنیکی ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔
یہ اقدامات اس وقت کیے گئے جب عمانی ماحولیاتی ادارے نے انکشاف کیا کہ راس مدرکہ کے بعض ساحلی علاقے تیل کی آلودگی سے متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تیل کا پھیلاؤ تقریباً 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ یہ آلودگی جزیرہ مصیرہ کے جنوبی ساحلوں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ 6 اگست کو عمان کی وزارت ٹرانسپورٹ نے ظفار کے علاقے میں الحلانیات جزائر کے قریب واقع القبلیہ جزیرے کے نزدیک "کیرولین بیزینگی” نامی آئل ٹینکر کے ڈوبنے کی تصدیق کی تھی۔
حکام کے مطابق تیل کے اخراج سے جزیرے کے سمندری حیات اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ ماحول کے تحفظ اور محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔







