
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو "تباہ کرنے” کے امکان پر غور کر رہے ہیں، تاہم اسی خطاب کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ کئی ماہ بعد پہلی مرتبہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس سے متعلق امریکی پالیسی پر تفصیلی بات کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد امریکا کے ساتھ معاہدہ کرلے گا۔ تاہم خطاب کے چند گھنٹے بعد انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ایرانی اور امریکی نمائندوں کے درمیان "بہت اچھی” بات چیت ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ جون میں سوئٹزرلینڈ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی حکام کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے عہدیداروں کی پہلی براہِ راست ملاقات سمجھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق بدھ کی مقامی وقت کے مطابق نصف شب سے تہران سے بغداد اور مسقط کے لیے پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ ایران بغداد جانے والی پروازوں کو نجف ایئرپورٹ منتقل کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق عراق نے اپنی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو بدھ سے ایرانی پروازوں کو بغداد ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے روکنے کی ہدایت کی ہے۔ دو ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام امریکا کی جانب سے ایرانی ایئرلائنز کی میزبانی کرنے والے ایئرپورٹس پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کے بعد کیا گیا۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی نمائندے کو شرائط پیش کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان شرائط کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران ایران کے ساتھ مستقبل میں معاہدے کا امکان ظاہر کیا، جبکہ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، فضائی پابندیوں اور خطے میں فوجی صورتحال بدستور جاری ہے۔







