
خلیج اردو
فلپائن کی نائب صدر سارا ڈوٹیرٹے کے خلاف جاری مواخذے کے ٹرائل کا 12واں ہفتہ منگل کو مکمل ہوگیا۔ کارروائی کے دوران بڑی رقوم کے مبینہ ذرائع پر توجہ مرکوز رہی، جو مبینہ طور پر ڈوٹیرٹے اور ان کے شوہر ماناسیس کارپیو کے زیر استعمال بینک اکاؤنٹس سے گزریں۔
فلپائن کے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کے کمپنی رجسٹریشن اینڈ مانیٹرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جیرارڈو ڈیل روزاریو نے پیر کو گواہی دی کہ 18 کمپنیاں ڈوٹیرٹے اور ان کے شوہر سے منسلک ہیں۔
ڈیل روزاریو نے بتایا کہ کمپنیوں کے رجسٹریشن ریکارڈ میں نائب صدر کا نام موجود ہے، جبکہ ان میں سے بعض کمپنیاں ڈوٹیرٹے کے سالانہ اثاثوں، واجبات اور خالص مالیت کے گوشوارے، یعنی SALN، میں بھی درج ہیں۔
یہ غیر قانونی کیوں ہے؟
فلپائن کے 1987 کے آئین کے تحت صدر، نائب صدر، کابینہ کے ارکان اور ان کے نائبین یا معاونین کو اپنے عہدے کی مدت کے دوران براہ راست یا بالواسطہ کسی کاروبار میں حصہ لینے یا حکومتی معاہدوں میں مالی مفاد رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
یہ آئینی شق اس دور میں سامنے آنے والے وسیع پیمانے پر اس تاثر کا ردعمل تھی کہ حکومتی عہدیدار سابق صدر فرڈینینڈ مارکوس سینئر کے دور حکومت میں سیاسی طاقت کو بدعنوان کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ موجودہ صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر، مارکوس سینئر کے صاحبزادے ہیں۔
ڈیل روزاریو نے بتایا کہ ایس ای سی ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ 2022 کے وسط میں نائب صدر منتخب ہونے کے بعد ڈوٹیرٹے نے کمپنیوں میں اپنے مفادات سے دستبرداری اختیار کی ہو۔ ان کے مطابق 2022 سے 2025 تک کے کارپوریٹ ریکارڈز میں ڈوٹیرٹے متعدد کمپنیوں کی بانی، شیئر ہولڈر اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رکن کے طور پر درج رہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان سے منسلک 18 کمپنیوں میں سے 10 نے اربوں پیسو کی فروخت کے باوجود ریکارڈ میں کوئی منافع یا ڈویڈنڈ ظاہر نہیں کیا۔ ان کمپنیوں میں ڈیواؤ سٹی کے اہم مقامات پر مقبول فاسٹ فوڈ چینز جیلی بی اور چوکنگ بھی شامل ہیں۔
ان کمپنیوں نے مبینہ طور پر ڈوٹیرٹے کے سیاسی اثر و رسوخ سے کیسے فائدہ اٹھایا؟
ڈوٹیرٹے سے منسلک ایک کمپنی جین کارپ انڈسٹریز انکارپوریٹڈ ہے۔ کمپنی کے ایس ای سی رجسٹریشن ریکارڈ میں ڈوٹیرٹے کا نام حقیقی مالکان میں شامل نہیں، تاہم نائب صدر نے خود اپنے SALN میں جین کارپ کو اپنے اثاثوں میں شامل کیا ہے۔
منگل کو استغاثہ کے گواہ رینڈل سوپینا، فلپائن گورنمنٹ الیکٹرانک پروکیورمنٹ سسٹم (PhilGEPS) کے ڈویژن چیف، نے مواخذے کی عدالت کو بتایا کہ جین کارپ کو 49 سرکاری معاہدے دیے گئے۔
جین کارپ کو معاہدے دینے والے اداروں میں ریجن 11 کا فلپائن ہیلتھ انشورنس کارپوریشن کا دفتر، اوورسیز ورکرز ویلفیئر ایڈمنسٹریشن اور ڈیواؤ سٹی کی حکومت شامل ہیں، جہاں ڈوٹیرٹے کے چھوٹے بھائی سباستین 2022 سے میئر ہیں۔
سوپینا نے گواہی دی کہ ڈیواؤ سٹی حکومت کے جین کارپ کے ساتھ 19 معاہدوں کی مجموعی مالیت 33.2 ملین پیسو سے زیادہ تھی، جو تقریباً 2 ملین درہم بنتے ہیں۔
نائب صدر سارا ڈوٹیرٹے خود بھی کئی مرتبہ ڈیواؤ سٹی کی میئر رہ چکی ہیں۔ ان کا خاندان تقریباً پانچ دہائیوں سے، فرڈینینڈ مارکوس سینئر کے دور صدارت سے، اس خطے میں ایک سیاسی خاندان کے طور پر بااثر رہا ہے۔
ڈیواؤ سٹی کے موجودہ میئر اور سارا ڈوٹیرٹے کے چھوٹے بھائی سباستین ڈوٹیرٹے نے ایک بیان میں کہا کہ تمام معاملات قواعد کے مطابق ہوئے اور سرکاری خریداری کے عمل میں مسابقتی بولی اور کم مالیت کی خریداری کے طریقہ کار استعمال کیے گئے۔ تاہم مقامی حکومت کے سربراہ نے اپنی بہن کے SALN میں جین کارپ کی شریک مالک کے طور پر درج ہونے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
سباستین کو آئندہ ہفتے استغاثہ کے جانب سے بطور مخالف گواہ بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
مواخذے کی گزشتہ سماعتوں میں استغاثہ نے بتایا تھا کہ نائب صدر ڈوٹیرٹے کی ظاہر کردہ مجموعی خالص مالیت 2007 میں 7.25 ملین پیسو، یعنی تقریباً 4 لاکھ 39 ہزار درہم، سے بڑھ کر 2025 میں 98.66 ملین پیسو، یعنی تقریباً 59 لاکھ درہم ہوگئی۔
فلپائن کی اینٹی منی لانڈرنگ کونسل (AMLC) کے اعداد و شمار کے مطابق 2006 سے 2025 کے درمیان ڈوٹیرٹے اور ان کے شوہر سے منسلک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 6.77 ارب پیسو، یعنی تقریباً 396.26 ملین درہم، کی مالی لین دین ہوئی۔
استغاثہ کے مطابق اس رقم میں سے 3.77 ارب پیسو، یعنی تقریباً 220.67 ملین درہم، براہ راست ڈوٹیرٹے سے منسلک ہیں۔ پراسیکیوٹرز نے واضح کیا کہ یہ رقم مجموعی مالی لین دین کو ظاہر کرتی ہے، نہ کہ خالص مالیت یا کاروبار کی براہ راست مالیت کو۔
گواہی کیوں اہم ہے؟
استغاثہ کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے سامنے آنے والی گواہیاں ڈوٹیرٹے کی مبینہ غیر واضح دولت، غلط SALN اور آئینی پابندی کے باوجود کاروباری مفادات برقرار رکھنے کے الزامات کو ثابت کرنے میں اہم ہیں۔
مواخذے کے آغاز پر سرکاری وکلا نے الزام عائد کیا تھا کہ نائب صدر نے اپنی قانونی آمدنی کے مقابلے میں غیر واضح دولت جمع کی اور اپنے اثاثوں کی درست طور پر معلومات فراہم نہیں کیں۔
رواں ہفتے ہونے والی دو روزہ سماعت کے دوران ڈوٹیرٹے کی دفاعی ٹیم نے گواہوں کی گواہی اور پیش کیے گئے دستاویزات کو سختی سے چیلنج کیا۔ دفاع نے ان انکشافات کو قانونی طور پر نامکمل اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
فلپائن کی سینیٹ، جو اس معاملے میں مواخذے کی عدالت کے طور پر کام کر رہی ہے، بدھ کو نائب صدر کو مجرم قرار دینے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد پر بحث کرے گی۔
ڈوٹیرٹے کے حامیوں کی جانب سے 16 ووٹوں کی شرط پر زور دینے کا امکان ہے، جو 24 رکنی مواخذہ عدالت کے دو تہائی ارکان کے برابر ہے۔
تاہم ڈوٹیرٹے کے سیاسی مخالفین ووٹنگ کے وقت موجود سینیٹرز کی تعداد کے مطابق کم اور قابلِ تبدیلی ووٹوں کی حد مقرر کرنے کا مؤقف اختیار کرنے کی توقع ہے۔
گزشتہ ہفتے فلپائن کی سپریم کورٹ کے تین ریٹائرڈ چیف جسٹسز نے بطور ’’فرینڈز آف دی کورٹ‘‘ قابلِ تبدیلی ووٹوں کی حد کی حمایت کی تھی، جبکہ ایک ایسوسی ایٹ جسٹس نے 16 ووٹوں کی شرط پر اصرار کیا تھا۔







