
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ نفسیات اور خاندانی فلاح و بہبود کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو اسٹار ہوٹل، مصروف سفری منصوبہ بندی اور سوشل میڈیا پر سینکڑوں تصاویر کسی کامیاب خاندانی تعطیلات کی ضمانت نہیں ہوتیں۔
ماہرین کے مطابق آج کل بہت سے خاندان چھٹیوں کو آرام اور خوشی کے بجائے ایک ایسی سرگرمی بنا چکے ہیں جس میں ہر لمحے کو خاص اور یادگار ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی سوچ تعطیلات کے اصل مقصد کو متاثر کر دیتی ہے۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ریٹا فیگوئیریڈو کے مطابق لوگ اکثر یہ سوچتے ہیں کہ اگر انہوں نے چھٹیوں پر زیادہ رقم خرچ کی ہے تو انہیں اس کے بدلے زیادہ خوشی بھی ملنی چاہیے۔ ان کے بقول بہت سے والدین یہ توقع رکھتے ہیں کہ تعطیلات کے دوران خاندان کے تمام افراد ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے اور بچوں کے لیے ناقابلِ فراموش یادیں بن جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو بڑھا دیا ہے۔ بہت سے لوگ سفر کا انتخاب اپنی ضروریات کے مطابق کرنے کے بجائے اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ ان کی تصاویر دوسروں پر کیا تاثر چھوڑیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعطیلات کے دوران ایک اور اہم مسئلہ گھر کے کاموں کی غیر مساوی تقسیم ہے۔ اکثر خواتین سفری منصوبہ بندی، ٹکٹوں، ہوٹلوں، بچوں کی ضروریات اور دیگر انتظامات کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں، جس کی وجہ سے ان پر ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
خاندانی فلاح و بہبود کی ماہر ڈاکٹر حنادی الجابر کے مطابق چھٹیوں کا مقصد خاندان کو آرام فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی ایک فرد پر تمام ذمہ داریاں ڈال دینا۔ ان کے مطابق میاں بیوی کو ذمہ داریاں تقسیم کرنی چاہییں تاکہ دونوں یکساں طور پر تعطیلات سے لطف اندوز ہو سکیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ مختصر وقت میں زیادہ سے زیادہ سرگرمیاں شامل کرنے کی کوشش بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اچھی تعطیلات کا تعلق سرگرمیوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کے معیار سے ہوتا ہے۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں سے پوچھیں کہ وہ چھٹیوں کے دوران کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اکثر بچوں کی خواہشات بہت سادہ ہوتی ہیں، جیسے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا، کھیلنا یا ایک ساتھ کھانا کھانا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر خاندان کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے کامیاب تعطیلات کا کوئی ایک فارمولا نہیں ہو سکتا۔ بعض خاندان سیر و تفریح کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنے عزیزوں کے ساتھ وقت گزارنے کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق چھٹیوں کی منصوبہ بندی سے پہلے خاندان کو یہ طے کرنا چاہیے کہ ان کا اصل مقصد کیا ہے۔ اگر مقصد آرام کرنا ہے تو شیڈول بھی اسی کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واپسی کے بعد کے دنوں کی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے تاکہ تعطیلات کے دوران حاصل ہونے والا سکون برقرار رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق کامیاب تعطیلات کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ کتنی جگہوں کی سیر کی گئی یا کتنی تصاویر لی گئیں، بلکہ یہ ہے کہ خاندان نے ایک دوسرے کے ساتھ کتنا اچھا وقت گزارا اور وہ خود کو کتنا خوش محسوس کرتے رہے







