متحدہ عرب امارات

یو اے ای کے ڈاکٹروں کا خواتین کو 30 برس کی عمر میں رجونورتی کی تیاری کا مشورہ، تحقیق میں 94 فیصد خواتین کو نیند کے مسائل کا انکشاف

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ صحت نے خواتین کو 30 برس کی عمر سے ہی رجونورتی (مینوپاز) کی تیاری شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ رجونورتی کے دوران 94 فیصد سے زائد خواتین کو نیند کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پری مینوپاز، یعنی رجونورتی سے پہلے کا مرحلہ، بعض خواتین میں 30 سے 40 سال کی عمر کے درمیان بھی شروع ہو سکتا ہے، تاہم اکثر خواتین اس کی علامات کو ذہنی دباؤ یا بڑھتی عمر کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہواری میں تبدیلی، مزاج میں اتار چڑھاؤ اور نیند میں خلل پری مینوپاز کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔

آسٹر کلینک کی ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر انوسری سراسوتھی کے مطابق علامات کی بروقت تشخیص انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے نہ صرف علامات پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے بلکہ ہڈیوں کی کمزوری اور دل کی بیماریوں جیسے خطرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 30 برس کی عمر میں ایسی علامات ظاہر ہونا بیضہ دانی کے قبل از وقت کمزور ہونے کی نشاندہی بھی ہو سکتا ہے، جس کے لیے فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق خواتین کو 40 برس کی عمر کے بعد متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش اور ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

ماہرین نے بحیرہ روم کی طرز کی غذا، پروٹین اور فائبر کے زیادہ استعمال کے ساتھ ساتھ کیلشیم، وٹامن ڈی اور اومیگا تھری کے استعمال کو بھی مفید قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی رجونورتی کی درمیانی اور شدید علامات کے علاج کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، تاہم یہ ہر خاتون کے لیے موزوں نہیں ہوتی اور اس کا فیصلہ مکمل طبی معائنے کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق رجونورتی سے گزرنے والی 94.5 فیصد خواتین نے نیند کے مسائل کی شکایت کی، جبکہ 83 فیصد خواتین کو جسم میں اچانک گرمی محسوس ہونے کی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر موجود غیر مصدقہ معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے مستند طبی ذرائع سے معلومات حاصل کریں، اپنی علامات کا ریکارڈ رکھیں اور باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button