
خلیج اردو
علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ غیر معمولی استحکام کا مظاہرہ کر رہی ہے، جس کے باعث عالمی سرمایہ کار اب بھی دبئی کو لندن اور سنگاپور جیسے روایتی محفوظ سرمایہ کاری مراکز پر ترجیح دے رہے ہیں۔
رئیل اسٹیٹ کمپنی Betterhomes کی نئی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے اگرچہ سرمایہ کاروں میں کچھ حد تک احتیاط پیدا کی ہے، تاہم دبئی میں جائیداد کی طلب بدستور مضبوط ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات مضبوط معاشی بنیادیں، سرمایہ کار دوست قوانین، جدید انفراسٹرکچر اور طویل المدتی ترقی پر اعتماد ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مارچ سے اپریل کے دوران بیرون ملک سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کی پوچھ گچھ میں 11 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ کرایہ داروں کی دلچسپی 40 فیصد بڑھ گئی۔ اپریل میں پراپرٹی لین دین میں تقریباً 2 فیصد ماہانہ اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا، جو علاقائی کشیدگی شروع ہونے کے بعد پہلی مثبت پیش رفت تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق آف پلان منصوبے تمام سودوں کا 76 فیصد حصہ رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سرمایہ کار دبئی کی مستقبل کی ترقی پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔
Dubai Land Department کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں دبئی میں مجموعی رئیل اسٹیٹ لین دین 252 ارب درہم تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ ہے۔ اسی عرصے میں 57,744 سودوں کے ذریعے 173 ارب درہم کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات کی مضبوط مالی حیثیت بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اہم سبب ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں Fitch Ratings، S&P Global Ratings اور Moody’s نے حالیہ جائزوں میں امارات کی اعلیٰ مالیاتی درجہ بندی برقرار رکھی ہے، جس سے ملک کی معاشی مضبوطی مزید نمایاں ہوئی ہے۔
دوسری جانب لندن میں بڑھتے ٹیکس اور سخت قوانین جبکہ سنگاپور میں غیر ملکی خریداروں پر 60 فیصد اضافی ٹیکس دبئی کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بنا رہے ہیں۔ دبئی میں سالانہ پراپرٹی ٹیکس نہ ہونے، کم لین دین اخراجات اور سرمایہ کار دوست رہائشی پروگراموں کو بھی اہم فوائد قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت کی حالیہ پالیسیوں نے بھی مارکیٹ کو تقویت دی ہے۔ سرمایہ کار ویزا کے لیے 750,000 درہم کی کم از کم پراپرٹی مالیت کی شرط ختم کیے جانے کے بعد درمیانی درجے کی مارکیٹ میں بیرونی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
اسی طرح 9 ارب ڈالر مالیت کے گولڈ لائن میٹرو منصوبے نے بھی مستقبل کی ترقی کے امکانات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ یہ منصوبہ 2032 تک دبئی کے 15 مختلف علاقوں کو آپس میں جوڑے گا اور نئی سرمایہ کاری راہداریوں کے قیام میں مدد دے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دبئی ماضی میں عالمی مالیاتی بحران، کورونا وبا اور متعدد علاقائی کشیدگیوں کا کامیابی سے سامنا کر چکا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سرمایہ کار اسے ایک مستحکم اور قابل اعتماد مارکیٹ تصور کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں بھی خریدار مارکیٹ سے نکلنے کے بجائے نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں، جبکہ دبئی رہائش، کرایہ جاتی آمدنی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے دنیا کے نمایاں ترین مراکز میں شامل ہے۔







