
خلیج اردو
دبئی میں مقیم 17 سالہ سائیٹ آئما نے صرف 10 سال کی عمر میں اپنی دادی کو بریسٹ کینسر میں مبتلا دیکھا۔ دادی خاندان کا جذباتی مرکز تھیں اور گردن پر معمولی سے دانے جیسے نشان کے بعد طبی معائنے میں انہیں اسٹیج 3 بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی۔
سائیٹ اس وقت کم عمر تھیں اور دبئی میں رہتی تھیں جبکہ ان کی دادی نئی دہلی میں تھیں۔ انہوں نے دادی کو کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کے مراحل سے گزرتے دیکھا۔ 2020 میں کورونا وبا کے دوران دادی انتقال کرگئیں جبکہ سفری پابندیوں نے خاندان کے لیے یہ مشکل وقت مزید تکلیف دہ بنا دیا۔
سائیٹ کے مطابق بچپن میں کینسر ان کے گھر میں تقریباً ایک "سرگوشی” کی طرح تھا، لیکن بڑے ہونے کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ کینسر پر بات نہ کرنا بھی مسئلے کا حصہ بن سکتا ہے۔
بالوں سے شروع ہونے والی مہم
سائیٹ اور ان کی بہن نے اپنے بال کٹوا کر Locks of Hope کے ذریعے عطیہ کیے۔ یہ پروگرام Friends of Cancer Patients کی جانب سے کیموتھراپی کے باعث بالوں سے محروم ہونے والے مریضوں کی مدد کرتا ہے۔
سائیٹ کہتی ہیں کہ یہ ایک چھوٹا سا قدم تھا لیکن اس سے انہیں احساس ہوا کہ مدد کرنے کے لیے کسی بڑے پلیٹ فارم یا بہت زیادہ وسائل کا انتظار ضروری نہیں۔
بعد ازاں انہوں نے For Her, For Hope کے نام سے فنڈ ریزنگ مہم شروع کی، جس کے ذریعے تقریباً 10 ہزار 400 درہم جمع کیے گئے۔ انہیں YallaGive کی جانب سے Fundraising Hero of the Month بھی قرار دیا گیا۔
کینسر پر بات کرنے کا حوصلہ
فنڈ ریزنگ کے دوران سائیٹ نے محسوس کیا کہ لوگ کینسر سے متعلق امدادی کاموں کے لیے عطیہ تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بیماری پر بات کرنے میں اب بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
اسی سوچ کے تحت انہوں نے Pink for Purpose کے نام سے کینسر آگاہی مہم شروع کی۔ اس کے تحت انہوں نے آنکولوجسٹس، سرجنز اور دیگر طبی ماہرین سے ابتدائی علامات، علاج، صحت مند طرز زندگی اور موروثی کینسر کے خطرات سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔
150 سے زائد خواتین کی اسکریننگ
سائیٹ نے اس سال بھارت میں بریسٹ کینسر آگاہی اور اسکریننگ پروگرام کے انعقاد میں بھی کردار ادا کیا، جس میں AIIMS نئی دہلی اور نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے طبی ماہرین نے تعاون کیا۔
ان کے مطابق پروگرام میں 150 سے زائد خواتین نے شرکت کی۔ خواتین کو بریسٹ سیلف اویئرنس، ممکنہ خطرے کی علامات اور طبی مشورہ لینے کے مناسب وقت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
کئی خواتین کو مزید طبی معائنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
سائیٹ کا کہنا ہے کہ دادی کے تجربے نے انہیں یہ سمجھایا کہ ابتدائی علامات بعض اوقات ایسے خاندانوں میں بھی نظر انداز ہوسکتی ہیں جہاں صحت کی سہولیات اور ڈاکٹر تک رسائی موجود ہو۔
اب ٹیکنالوجی کے ذریعے مدد کا منصوبہ
سائیٹ اب اپنی دلچسپی کے ایک اور شعبے ٹیکنالوجی کو صحت کے شعبے سے جوڑ رہی ہیں۔ انہوں نے CareCheck نامی ایک ڈیجیٹل بریسٹ ہیلتھ پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو عوام کے لیے متعارف کرانے سے قبل حتمی مراحل میں ہے۔
اس پلیٹ فارم کا مقصد خواتین کو بریسٹ سیلف چیک کے حوالے سے رہنمائی، یاد دہانیاں، علامات اور تبدیلیوں کا ریکارڈ رکھنے اور طبی معلومات سمجھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ قریبی طبی سہولیات تلاش کرنے میں بھی مدد دے گا۔
سائیٹ واضح کرتی ہیں کہ CareCheck کینسر کی تشخیص نہیں کرے گا اور ڈاکٹر کا متبادل نہیں ہوگا بلکہ اس کا مقصد خواتین کو جسم میں ہونے والی تبدیلیوں پر توجہ دینے اور ضرورت پڑنے پر طبی ماہر سے رجوع کرنے میں مدد دینا ہے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد سائیٹ امریکا یا برطانیہ میں کمپیوٹر سائنس یا کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ پڑھنے اور مصنوعی ذہانت پر توجہ دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ کینسر سے جڑے جذباتی تجربات نے انہیں یہ سمجھایا کہ وہ ڈاکٹر یا نرس بنے بغیر بھی کمپیوٹر سائنس کے ذریعے صحت کے شعبے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔
دادی کی تشخیص کو سات سال گزرنے کے باوجود سائیٹ آج بھی ان کی یاد کو اپنی جدوجہد کی طاقت سمجھتی ہیں۔ ان کے الفاظ میں، انہیں امید ہے کہ ان کی دادی ان کی کامیابیوں پر فخر کرتی ہوں گی۔







