
ملتان: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سرکاری طیارے کے استعمال پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے پاس جہاز موجود ہیں، مگر نشانہ صرف انہیں بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طیارہ پنجاب حکومت کی ملکیت ہے جسے انہوں نے کبھی ذاتی مقاصد یا رائے ونڈ جانے کے لیے استعمال نہیں کیا۔
ملتان میں ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے سب سے قیمتی اثاثہ وقت ہے اور عوام کی خدمت کے لیے وہ آئندہ بھی وقت بچانے کی خاطر طیارہ استعمال کرتی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ دیگر لوگ جہاز کا خرچہ قومی خزانے سے پورا کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے تمام اخراجات کا بوجھ خود اٹھاتی ہیں۔ انہوں نے طنزاً پوچھا کہ کیا وہ لندن چنگچی یا موٹر سائیکل پر جاتیں؟ جن کے پاس کام نہیں ان کے لیے وقت کی کوئی اہمیت نہیں، لیکن ان کے پاس ضائع کرنے کے لیے بالکل وقت نہیں ہے۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے مریم نواز نے خیبر پختونخوا کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ پختونخوا سے آئے لوگ لاہور کی سڑکوں پر خوار ہوتے رہے مگر کسی نے انہیں لفٹ نہیں کرائی، جس پر وہ زبردستی پولیس گاڑیوں میں بیٹھ گئے۔
پولیس مقابلوں پر اعتراض کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجرموں کی ہلاکت پر شور مچانے والے سی سی ڈی کے شہید اہلکاروں کو بھول جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ مقدمات سے نہیں ڈرتیں، لیکن عوام کی جان و مال اور خواتین کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ملتان کے لیے متعدد عوامی اور ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین اور طلبہ کے لیے گرین الیکٹرک بس سروس سو فیصد مفت شروع کر دی گئی ہے، جس میں سی سی ٹی وی کیمرے اور ہر سیٹ پر موبائل چارجنگ پورٹ کی سہولت موجود ہے تا کہ طالبات محفوظ سفر کر سکیں۔
کسانوں کی سہولت کے لیے ملتان ایگریکلچر مال کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں ایک ہی چھت تلے بیج، کھاد، ادویات اور ٹریکٹر سمیت تمام جدید مشینری میسر ہوگی۔ اس کے علاوہ ماضی میں "قاتل روڈ” کے نام سے مشہور 93 کلومیٹر طویل ملتان وہاڑی روڈ کو 35 ارب روپے کی لاگت سے ایک سال کے اندر مکمل کر لیا گیا ہے، جس سے اب ڈھائی گھنٹے کا سفر محض ایک گھنٹے میں طے ہو رہا ہے۔







