پاکستانی خبریں

راولپنڈی مال روڈ پر سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ، جوابی کارروائی میں ملزم ہلاک، سیاسی جماعت سے وابستگی کا دعویٰ

خلیج اردو
راولپنڈی کے مال روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کرنے والے ایک شخص کو جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔

راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق واقعہ 11 اگست 2026 کو صبح 11 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا، جب محمد حسین ولد محمد باذ نامی شخص نے مبینہ طور پر پستول سے سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کی۔

پولیس کے مطابق اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے مبینہ حملہ آور محمد حسین کو ہلاک کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون اور دیگر سامان سے مزید شواہد اور اس کے روابط سے متعلق معلومات سامنے آئی ہیں جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ضلع خیبر کے رہائشی محمد حسین کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ محمد حسین ایک سیاسی جماعت کا سرگرم کارکن تھا۔

ذرائع کے مطابق ملزم کے قبضے سے مبینہ طور پر سیاسی جماعت کا پرچم، اسلحہ، گولیاں اور اہم دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر ملزم کے مبینہ طور پر جماعت کی قیادت سے رابطوں اور ان کی ہدایات پر عمل کرنے سے متعلق تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ماضی کے بعض احتجاجی دھرنوں کے دوران بھی محمد حسین مبینہ طور پر اشتعال انگیزی، پتھراؤ اور فائرنگ میں ملوث رہا ہے اور اس پر سیکیورٹی فورسز کو اسلحے کے ذریعے نشانہ بنانے کا بھی الزام ہے۔

ذرائع کے مطابق ملزم کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں اور ان دعوؤں کی مکمل تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔

عطاء تارڑ کا واقعے پر ردعمل

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے راولپنڈی مال روڈ پر فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے ایک سیاسی جماعت پر تشدد کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ مال روڈ پر سیکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کا کوئی جواز نہیں اور ان کے بقول مذکورہ سیاسی جماعت کے احتجاج میں مسلح افراد کی شرکت اور سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ سیاسی جماعت پرامن احتجاج کے بجائے تشدد کی جانب جاتی ہے اور احتجاج کے ذریعے ملک میں انتشار اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے میں ہلاک ہونے والے شخص سے مبینہ طور پر سیاسی جماعت کا پرچم اور دیگر دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، جس سے اس کے سیاسی روابط سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

عطاء تارڑ نے مزید الزام عائد کیا کہ مذکورہ سیاسی جماعت کی جانب سے اہم قومی مواقع پر احتجاج کی کالز دی جاتی رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ راولپنڈی مال روڈ پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے سے احتجاج کے دوران تشدد کے حوالے سے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت ملک کی ترقی، امن و امان اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

راولپنڈی پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی پرتشدد کارروائی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button