
خلیج اردو
سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔ پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو نے قرارداد پیش کی جس پر ایم کیو ایم نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم منظور نہیں، فیصلہ اسمبلی میں ہوچکا ہے۔ ٹی وی شوز میں اس معاملے پر بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں کہ سندھ کے ٹکڑے کرنے کی بات نہ کی جائے۔ انہوں نے ایم کیو ایم پر سندھ کے عوام کے جذبات سے کھیلنے اور نفرتیں پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کسی رکن نے سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی، ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔ بحث سندھ کی تقسیم پر نہیں بلکہ اختیارات کی منتقلی پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بدانتظامی سب سے زیادہ ہے اور صوبائی وزرا کے پاس بھی اختیارات نہیں۔
ایم کیو ایم کے معید انور نے کہا کہ ہم سندھ توڑنے کی بات نہیں کر رہے، انتظامی یونٹس بننے سے معاملات بہتر ہوں گے۔ صابر قائم خانی نے کہا کہ ایم کیو ایم سندھ کے خلاف نہیں، سندھ کی تقسیم کون چاہتا ہے؟
فریال تالپور نے دوٹوک اعلان کیا کہ سندھ کا بٹوارہ نہیں ہونے دیں گے، سندھ ہماری ماں ہے اور اس کے لیے جئیں گے اور مریں گے۔ سندھ کسی کی جاگیر نہیں، صوبے کی تقسیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کا فیصلہ اسمبلیوں نے کرنا ہے، ملک آئین کے تحت چلے گا کسی کی خواہش پر نہیں۔ جس طرح پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے اسی طرح سندھ بھی ہماری ریڈ لائن ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ صوبے بنانا کوئی مذاق نہیں، نئے انتظامی یونٹس کے لیے دیواروں پر چاکنگ کو عوامی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سندھ اسمبلی بار بار کہہ چکی ہے کہ سندھ میں نئے صوبے بنانے کی ضرورت نہیں۔







