
خلیج اردو
2026 کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں آنے والے طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ کئی مقامات پر عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، لوگ ملبے تلے دب گئے اور امدادی ٹیموں نے کئی کئی روز تک زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھی۔
جنوبی امریکا سے ایشیا تک آنے والے ان شدید زلزلوں نے ایک بار پھر واضح کردیا کہ جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کے باوجود طاقتور زلزلے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
2026 میں اب تک سب سے زیادہ تباہی پھیلانے والے چند بڑے زلزلے یہ ہیں۔
کولمبیا، 10 اگست
10 اگست کو مغربی کولمبیا میں 7.4 شدت کا شدید زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں متعدد شہروں میں عمارتیں منہدم ہوگئیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز صوبہ چوکó میں سان خوسے ڈیل پالمر کے قریب 107 کلومیٹر گہرائی میں تھا تاہم شدید جھٹکے ملک کے بڑے شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔
کولمبیا ایسوسی ایشن آف کیپیٹل سٹیز کے مطابق پیر کی سہ پہر تک زلزلے سے 132 افراد ہلاک اور 570 سے زائد زخمی ہوچکے تھے جبکہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے پھنسے ہوئے تھے۔
کولمبیا کے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریلا نے اقتدار سنبھالنے کے صرف تین روز بعد ہنگامی حالت نافذ کردی اور بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں کا اعلان کیا۔
زلزلے کے باعث پریرا، مانیثالس، کوئبدو، آرمینیا، کارتاگو اور بویناونتورا کے ہوائی اڈوں پر پروازیں عارضی طور پر معطل کردی گئیں تاکہ عمارتوں اور رن ویز کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جاسکے۔
وینزویلا، 24 جون
وینزویلا میں 24 جون کو 7.2 اور 7.5 شدت کے دو بڑے زلزلے آئے جنہوں نے ساحلی ریاست لا گویرا کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔
زلزلوں کے نتیجے میں تقریباً 200 عمارتیں منہدم ہوئیں اور ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی۔
10 اگست تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 6,301 تک پہنچ چکی تھی جبکہ امدادی کارکن اور متاثرہ خاندان ملبے میں مزید لاشوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق 73 ہزار سے زائد افراد کو اسپتالوں میں طبی امداد دی جاچکی تھی جبکہ زلزلے سے پیدا ہونے والے ملبے کا تقریباً 23 فیصد حصہ ہٹایا جاچکا تھا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے PAGER نظام نے ابتدائی اندازوں میں خبردار کیا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔
امریکا نے وینزویلا کے لیے امداد بھیجنے کا اعلان کیا جبکہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے زلزلے کے بعد تعمیر نو کے لیے آئی ایم ایف سے 346 ملین ڈالر حاصل کرنے کا اعلان کیا۔
فلپائن، 8 جون
فلپائن میں 8 جون کو منڈاناؤ کے قریب 7.8 شدت کا زلزلہ آیا جس کے بعد سونامی کی وارننگ جاری کی گئی۔
زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 106 افراد ہلاک، 1,300 سے زائد زخمی اور 7 افراد لاپتا ہوئے۔ یہ زلزلہ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران فلپائن میں آنے والے تباہ کن ترین زلزلوں میں شمار کیا گیا۔
فلپائن کے ادارے PHIVOLCS نے کئی ساحلی صوبوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کرتے ہوئے رہائشیوں اور کاروباری مراکز کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔
صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں اور سرکاری دفاتر کا کام معطل کردیا جبکہ امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔
جنوبی منڈاناؤ میں متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی۔ تقریباً 70 لینڈ سلائیڈنگ واقعات سے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جبکہ کئی دیہات تک جانے والی سڑکیں ملبے اور مٹی کے تودوں کے باعث بند ہوگئیں۔
متعدد علاقوں میں خوراک اور پانی کی قلت پیدا ہوگئی جبکہ سرنگانی صوبے کے ایک علاقے میں مٹی اور ملبے کی رکاوٹ کے باعث پانی جمع ہونے سے نئی جھیل بننے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
متحدہ عرب امارات کی امدادی تنظیم یو اے ای ایڈ پہلی غیر ملکی انسانی امدادی تنظیم تھی جو شدید متاثرہ ساحلی علاقے گلان میں پہنچی۔
8 جون کے زلزلے کے بعد 6 ہزار سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جاچکے ہیں جن میں کئی کو شدید قرار دیا گیا۔
جاپان، 28 جولائی
جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو کے کماموتو پریفیکچر میں 28 جولائی کو شدید زلزلہ آیا۔
جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے زلزلے کی شدت 7.1 جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے نے 6.8 ریکارڈ کی۔
زلزلے کے نتیجے میں کئی مکانات تباہ ہوئے، پلوں کو نقصان پہنچا، آگ بھڑک اٹھی اور دسیوں ہزار افراد بجلی اور پانی سے محروم ہوگئے۔
زلزلے میں کم از کم 39 افراد ہلاک اور 170 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ متعدد عمارتیں منہدم اور سڑکوں میں بڑے شگاف پڑ گئے۔
زلزلے کے باعث ٹوکیو الیکٹرون اور ہونڈا سمیت کئی کمپنیوں نے مقامی سطح پر اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کردیں۔
ایون شاپنگ مال کو زلزلے کے بعد خالی کرایا گیا تاہم تقریباً 50 منٹ بعد عمارت میں شدید دھماکے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا اور کئی ملازمین اندر موجود تھے۔
حکام نے مزید آفٹر شاکس اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی اور ہزاروں افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔
زلزلے کے بعد کم از کم 390 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے۔ 10 اگست تک 6 ہزار سے زائد افراد اب بھی عارضی امدادی مراکز میں رہ رہے تھے۔
جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے خطے میں جاری شدید زلزلہ خیزی کے باعث آئندہ ایک ماہ کے دوران مزید زلزلوں کے امکان پر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔







