پاکستانی خبریں

ججز کے تبادلوں پر پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار، وکلا تنظیموں کے بھی تحفظات، سینیارٹی اور آئینی تقاضوں پر سوالات اٹھا دیے گئے

خلیج اردو
پاکستان تحریک انصاف نے ججز کے حالیہ تبادلوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے آزاد عدلیہ پر حملہ قرار دیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ آزاد عدلیہ کیلئے افسوسناک دن ہے اور بچی کھچی عدلیہ پر وار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کی سفارشات واپس لے کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ آزاد عدلیہ میں صرف من پسند ججز ہی قابل قبول ہوں گے۔ ان کے مطابق ججز کے تبادلوں سے ہائیکورٹس کی سینیارٹی متاثر ہوگی اور اس کیلئے پہلے واضح قواعد بنائے جانے چاہیے تھے۔

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کسی بھی جج کا بلاوجہ تبادلہ نہیں کیا جا سکتا اور ایسا اقدام آئین کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ججز کی ٹرانسفر کو بطور سزا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے عدالتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ تبادلوں کی وجوہات سامنے لانا ضروری ہیں ورنہ اسے بدنیتی سمجھا جائے گا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا بار کونسل نے بھی یکطرفہ ججز تبادلوں پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پشاور ہائی کورٹ میں دیگر صوبوں سے ججز تعینات کیے جا رہے ہیں تو یہاں سے بھی ججز کو منتقل کیا جانا چاہیے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس معاملے نے عدلیہ کی آزادی، شفافیت اور تقرری کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button